ڈڈیال میں تشدد کا شکار ہونے والی خاتون نے پولیس کے خلاف وزیراعظم ہاوس جانے کا اعلان کردیا 110

ڈڈیال میں تشدد کا شکار ہونے والی خاتون نے پولیس کے خلاف وزیراعظم ہاوس جانے کا اعلان کردیا

ڈڈیال (تحصیل رپورٹر )
پولیس تھانہ ڈڈیال میں مظلوموں کو انصاف ملنا خواب بن گیا اپنے خاوند کے ہاتھوں بدترین تشدد کا شکار ہونے والی 7ماہ کی حاملہ ثنیا تحصیل ہیڈکواٹر اور ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر میں 5دن تک زیر علاج رہنے والی آج بھی انصاف کی منتظر پولیس تھانہ ڈڈیال پانچ دن گزر جانے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرسکی گزشتہ رات ثنیا کے خاوند کو گرفتار کیا اور صبح سویرے بیماری کا بہانہ بنا کر چھوڑ دیا الٹا پولیس تھانہ ڈڈیا ل میں مظلومہ کی والدہ اور چچا سے بدتمیزی کی گئی مظلومہ کی والدہ خالدہ بی بی نے وزیر اعظم آزاد کشمیر ، آئی جی پولیس آزاد کشمیر ، ڈی آئی جی میرپور اور ایس ایس پی میر پور سے پولیس تھانہ ڈڈیال کی طر ف سے ملزم کے خلاف کاروائی نہ کرنے اور تھانے میں بدتمیزی اور رشوت لینے والوں کے خلاف کار روائی کا مطالبہ کردیا ڈڈیال انب کی رہائشی مظلومہ ثنیا کی والدہ خالدہ نے روتے ہو ئے میڈیا کو بتا یا کہ پانچ دن قبل میری بیٹی جو کہ 7ماہ کی حاملہ ہے اس کو شوہر نے تشدد کیا زخمی حالت میں تحصیل ہیڈکوارٹر پہنچایا وہاں ڈاکٹر نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے ابتدائی قانونی کاروائی کی اور ڈاکٹر نے حالت تشویشناک ہونے پر میرپور ریفر کیا 4,5دن تک میر پور ہسپتا ل رہے گزشتہ روز بیٹی کو گھر لائے لیکن 5دن گزر جانے کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی تھانے کے کئی چکر لگانے کے بعد خرچہ پانی پولیس والوں نے لینے کے بعد ملزم زبیر کو گرفتار کر کے تھانے میں بٹھادیا ہمیں بار بار ہسپتال کی رپورٹیں لانے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہسپتال والوں کا کہنا ہے ہم رپورٹیں پولیس والوں کو دینگے پولیس رپوٹس کا بہانہ بنا کر پرچہ درج نہیں کررہی ہے گزشتہ روز جب میں اپنے دیور کے ہمراہ تھانے میں پہنچی تو ملزم زبیر کو چھوڑ دیا ہمارے پوچھنے پر بیماری کا بہانہ بنایا محرر کے کمرے میں بیٹھے پولیس اہلکاروں نے ہمیں متعلقہ تفتیشی وقار امین سے ملنے تک نہ دیا بلکہ الٹا ہماری تذلیل کی میرے دیور کو باہر نکلنے کا کہا ہمیں انصاف نہیں دیاجارہا ہے اپنی بساط کے مطابق پولیس کو رشوت بھی دی لیکن پھر بھی پولیس کار روائی نہیں کررہی ہے خالدہ بی بی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم سمیت پولیس کے اعلیٰ احکام نے ہمیں انصاف نہ دیا اور پولیس تھانہ ڈڈیال کے خلاف کاروائی نہ کی تو مجبور اً وزیراعظم ہائو س کے باہر اہلخانہ کے ہمراہ دھرنا دینے پر مجبور ہوجائوں گی
مظلومہ ثنیا پر تشدد کرنے والے اس کے خاوند کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کے حوالے سے انسپکٹر پولیس تھانہ ڈڈیال سے رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہوسکا جب کہ متعلقہ تفتیشی وقار امین نے کہا کہ ڈاکٹر رپورٹ کے بعد ایف آئی آر در ج کرینگے ملزم کی صحت خرا ب ہوگی تھی جس کے باعث ہسپتا ل بھیجا ہے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں