32

زندگی کی شان ہے اُردو زبان۔!

٭…غازی سہیل خان
اُردو، بر صغیر میں کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔ جو اپنی جاذبیت و مٹھاس کی وجہ سے تمام قوموں میں مقبول ہے، خصوصاً برصغیر ہندوو پاک میں، جہاں کثرت سے اُردو زبان بولی جاتی ہے، پاکستان میں اُردو سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ بھارت میں بھی کثیر آبادی یہ زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل تمام قومیں جن میں ہندو،مسلم، سکھ، اکثر مذاہب سے وابستہ لوگ اُردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرکاری زبان یہی اُردو ہے۔ یہاں کی کثیر لسانی صورت حال کے پیشِ نظر اُردو ایک اہم ضرورت بن گی تھی اور یہ ضرورت بدستور قائم ہے۔کشمیر، جموں، لداخ کی مقامی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، لداخی،پہاڑی، شنا اور بلتی کے علاوہ بہت ساری نسلوں،تہذیبوں اور مذہبی اکائیوں سے وابستہ زبانیں مثلاً گوجری’پشتو’پنجابی’ بھدرواہی ‘بکروالی وغیرہ، ان تمام زبانوں کے درمیان اُردو کو رابطے کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس زبان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی علاقے کی مادری زبان نہیں بلکہ سب کی لسانِ مشترک ہے۔باوجود اس کے کہ ُاردو اس وقت عالمی زبان بن گئی ہے ۔دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میںآج اُردو پڑھائی جاتی ہے، یہ اب ہندوستان اور پاکستان کی زبان نہیں بلکہ اس زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔ جموں کشمیر کے ڈوگرہ راج میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے 1889ء میں دفعہ 145 کے تحت اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا۔لیکن شومئی قسمت جموں و کشمیر کے دستور میں ایسے دفعات موجود ہیں جن کی باری باری یہاں کے حکمرانوں اور نیتاوں نے کانٹ چھانٹ کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہیں ۔ اگرچہ اُردو کو یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم جو اس زبان کا حال آج ہمارے سامنے ہے وہ سب کے سامنے عیاں وبیاں ہے ۔چند سال قبل یہاں بچوں کو بُنیادی تعلیم اُردو زبان میں ہی دی جاتی تھی اور آج حال یہ ہے کہ بچوں کو اُردو پڑھنا تو دور کی بات اُردو زبان میں بات کرنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔اجتماعی سطح پر یہاں کی آبادی اس زبان سے دور کی جا رہی ہے، تاہم یہاں مسلمانوں کی اکثریت پائی جاتی ہے اس لیے ان کامذہبی لٹریچر جس میں تفاسیر،احادیث،فقہ وغیرہ 80 فیصداُردو زبان میں ہے ، جس کی وجہ سے ابھی بھی اُردو زندہ ہے۔ اُردو سے دوری کے بعد یہاں کی نوخیز نسل مغربی تہذیب کا دلدادہ بنتی جا رہی ہے ۔اسلامی روایات کو دن دہاڑے دفن کیا جا رہا رہاہے۔اُردو زبان کی بدحالی کے لئے جہاں یہاں کی حکومتوں اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھرایا جاسکتا ہے وہیں یہاں کے ادباء ،شعرا اور اُردو کے نام پر روٹیاں کھانے والوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانا غلط نہیں ہو گا۔ جب اُردو کے نصاب کی بات کرتے ہیں توآج کے اس مابعد جدیدیت (post modern)کے دور میں بھی ہمارے طلبہ کو ”رگے گُل سے بلبل کے پر باندھنے” کو کہا جاتا ہے،وہی الف لیلی داستانیں اور مافوق الفطرت قصے اور کہانیاں پڑھائی اور سُنائی جاتی ہیں ، بس ”طوطے کی رٹ ” کی طرح اُردو کے نصاب میں کبھی کوئی تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔اسی طرح سے اُردو کے نام پر ایک ایسا طبقہ ریاست میں کام کر رہاہے جس کو ”اُردو مافیا”(urdu mafia) کے لقب سے پُکارا جا سکتا ہے، اس طبقے نے کبھی سنجیدگی سے اُردو زبان و ادب کی اشاعت و فروغ کے لئے کام نہیں کیا ،کبھی اُردو زبان سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بس اپنا نام اور زر کمانے کے لئے اس زبان کو استعمال میں لایا ۔اسی طرح سے ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس میٹھی زبان کے پروفیسر صاحبان جو اس کی اہمیت و افادیت طلبہ کو سمجھانے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کے ہی مرتکب ہو رہے ہیں سوائے چند ایک پروفیسرصاحبان کے ۔ایک طرف میڈیا میں اُردو کے نام نہاد عاشق اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے بُلند بانگ دعوے کرتے ہیںاوردوسری جانب اپنے بچوں کو انگلش میڈیم کے ذریعے ہی تعلیم دینا پسند کرتے ہیں ۔ایک اورالمیہ یہ ہے کہ یہاں کے چند غیر سرکاری تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں بچوں کو ایک اہم’ حق’ یعنی اُردو زبان و ادب سے دور رکھا جاتا ہے’ حق ‘کا لفظ اس لئے استعمال کیا کیوں کہ ایک بچے کا یہ حق ہوتا ہے کہ اُسے اپنے دین ،تہذیب و تمدن اور سرکاری زبان سے آشنا رکھا جائے بلکہ اس کو اپنے مذہبی ،سماجی ،تہذیبی اور سرکاری زبان میں مہارت ہونی چاہیے۔جدیدیت کے نام پر ترقی اور خوشحالی کے نام نہاد نعرے دے کر یہاں کے بچوں کو اُردو زبان و ادب سے محروم کر دیا جاتا ہے جو کہ یہاں کے بچوں کے ساتھ بدترین قسم کی حق تلفی ہے ۔ اتنا ہی نہیں چند ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں اُساتذہ اور طلبہ پر اُردو اور کشمیری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی عائد ہے بلکہ اگر کسی کو اُردو یا کشمیری میں بات کرتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اس کو ہزاروں روپے کا جرمانہ اداکرنا پڑتا ہے ،۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اُردو ورلڈ سرینگر(Urdu world srinagar)کی ٹیم کے ساتھ پیش آیا۔حسب معمول جب یہ ٹیم ماگام کے ایک پرائیوٹ اسکول پہنچی تو بچوں سے بات چیت کے دوران جب اُردو میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوںنے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ ہمیں اُردو زبان میں بات کرنی نہیں آتی اور ساتھ ہی اُساتذہ صاحبان نے کہا کہ اگر ہمیں اسکول انتظامیہ نے اُردو میں بات کرتے ہوئے دیکھاتو دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتاہے ۔واحسراتا…!
میری اس خامہ فرسائی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو انگیریزی تعلیم سے دور کھنا چاہے یا ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلنا چاہئے بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اس حق( اُردو زبان و ادب )سے نا آشنا نہیں رکھنا چاہے ۔
جموں کشمیر میں تو اُردو زبان کے رہبر ہی رہزنی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے نام پر جو نام نہاد تنظیمیں و ا دارے وجود میں آئے ہیں اُن کواگرہم اُردومافیا (urdu mafia)کا نام تفویض کریں تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔ایک واقعہ پیش کرتاہوں:چند سال قبل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کشمیر یونی ورسٹی حضرت بل سرینگر میں بیٹھا تھا ،باتوں ہی باتوں میںہم نے اُردو زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو چھیڑی نتیجتاًمیں نے اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ادروں کے ساتھ ساتھ اُن افراد کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچا تو بھی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے دوست نے کہا کہ ”آپ کو ابھی شاید علم نہیں ہے کہ آپ کن اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کے حوالے سے لکھنے کی جسارت کرنے جا رہے ہیں؟ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ آپ کے مضامین جو اخبار میں آتے ہیں وہ بھی بند کروا دیے جائیں گے ۔”
ذاتی طور پر میں نے یہ اخذ کیا ہے کہ جن لوگوں نے بھی اُردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ وجود میں لایا ہے آج تک وہ کوئی خاص کام انجام نہیں دے پائے سوائے چند ایک کے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ادارے اور تنظیمیں اخلاص کی بُنیاد پر نوجوان نسل کی تربیت کرتے، اُبھرتے ہوئے قلم کاروں ،شاعروں ،افسانہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے، نئی نسل کواُردو زبان و ادب سے آشنا کرتے لیکن افسوس! کام اس کے برعکس ہی ہو رہا ہے۔ اس پر مزید چوٹیں جو ڈالی گئیں اس میں انٹرنیٹ کا بڑا عمل دخل ہے۔انٹرنٹ کے موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اُردو زبان کی بول چال کا معیار بھی کافی حد تک گرا دیا گیا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں،یہاں آج کل سوشل میڈیا جس میں فیس بک اور یوٹیوب ودیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بہت ساری نیوز چنلیں ہیں، جن کے صحافی اوررپورٹر اس زبان کا ستیاناس کر نے پر تلے ہوئے ہیں، ہم نے یہ دیکھا کہ اگر کسی صحافی یا رپورٹر سے انگریزی میں بات کرنے کے دوران کوئی چوک ہو جائے تو اُسے کبھی عوام معاف نہیں کرتی پہلے تو وہ صحافی انگریزی میڈیا میں کام کر ہی نہیں سکتا جس کی زبان اچھی نہ ہو اور اُردر میڈیا میں نیم حکیم صحافی بھی دو چار باتیں کر کے تُرم خان بن ہی جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں اُردو زبان کی بگڑتی حالت پر کیوں مچتا کہرام نہیں ؟۔تاہم جب ہم موجودہ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو اس وقت ساری دنیا خصوصاً مغرب اسرائیل کی پالسی اور پروگرام کے تحت دُنیا پر اپنے نظریات کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنی دھاڑجمانے میں کامیاب ہو گیا ہے، تبھی تو یہ چند لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ملک مسجد اقصیٰ پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے ہوئے بیٹھا ہے اور دنیا ئے اسلام کی 57آزاد مملکتیں اسرائیل کی جارہیت کو روکنے میں ناکام ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اپنی مادری زبان عبرانی(Hebrew) میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد عاشقان اُردو زبان و ادب شاید سمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔
ان سارے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی گستاخی کے بعد یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اگر ہمیں اپنی نسل نو کو تاریخ ،اسلام اور ادب سے وابستہ رکھنا ہے تو اپنے سارے ذاتی مفادات کو بالائے تاق رکھ کر اس زبان کو اس ذبوںحالی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ یہاں کے حکمرانوں اور لیڈروں کوچاہے کہ اُردو کے فروغ کے لئے ضروری اقدامات اُٹھائیں جن میں سب سے پہلے ایک اُردو اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔ اُردو کے مضمون کو گریجویشن تک ہر ایک طالب علم کے لئے لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ جن سرکاری محکموں دفتری کام اُردو میں کام کاج ہوتا تھا ان کو اُردو میں ہی کام کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔سرکاری عمارتوں کے ساتھ پرائیوٹ اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ سائن بورڈ اور عمارتوں پر لگے بینرس پر انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی تحریر کو لازمی قرار دیا جائے۔ اُردو کے فروغ و اشاعت کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں اور ادارے وجود میں آئے ہیں اُن کو نیت خلوص کے ساتھ اس زبان کو نسل نو تک پہنچانے کی کوشش کرنی چائیے۔ جموں کشمیر کی سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے اپنی سطح پر اقدامات اُٹھائیں ،تا کہ اس میں علم کے سرمائے سے نوجوان طبقہ بہرہ ور ہو کر سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کر سکے اورسماج کو اس تہذیبی جارحیت سے خلاصی کے لئے اپنی صلاحتوں کو صرف کریں ۔اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ہم سب پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اُردو زبان کو عروج بخشنے میں اپنی صلاحتوں کو بروے کار لائیں ۔تا کہ ہم بھی دنیا کے ساتھ چل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں ،اگر ہم ایسا نہ کریں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ
ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں ٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں