40

عصمت دری کے بڑھتے واقعات ذمہ دار کون؟

تحریر ۔قاری نصیر احمد پیر

بد قسمتی سے وادی کشمیر جنت بے نظیر میں عصمت دری کے واقعات پیش آنے لگے ،ان واقعات پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ واقعات کیسے پیش آئے ہیں ۔ایسے واقعات کا پیش آنا قانون ساز اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ قانون ساز اداروںنے عصمت دری کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی اس حوالے سے کوئی مضبوط قانون نہیں بنایا ہے ۔یہاں قانون ساز اداروں نے مزاحمتی قائدین کو کچلنے کیلئے اور کشمیری قوم کو زیر کرنے کے لئے جتنا ضرور لگایا اگر اُس زور کا نصف فیصد بھی ان جرائم کو روکنے کے لئے لگایا ہوتا تو آج ایسے د ل خر اش واقعات سننے اور دیکھنے کو نہیں ملتے ، جب ہم تاریخ کشمیر کی ورق گردانی کرتے ہیں ۔تو پتہ چلتا ہے کہ کشمیر پیروں، فقیروں ا،ولیا ء اللہ ،کا مسکن رہا ہے ۔لہذا ان خدا دوست شخصیات کا اثر کشمیر کی سرزمین پر ہمیشہ دیکھنے کو ملا ، سچ یہ ہے نقاش ازل نے بہشت نما سر زمین کشمیر کو قدرتی حسن سے ہی مالا مال ہی نہیں کیا ہوا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کو بھی حیات بخش امتیازات اور خصوصیات سے مزین کیا ہوا ہے ۔ ڈوگرہ راج کے دوران جب یہاں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا تھا ، ۔جب اپنی ہی سرزمین انکے لئے تنگ کی گئی تھی،مگر اس وقت بھی یہاں شرم و حیا ،امن، بھائی چارے ،کی لا مثالیں دیکھنے کو ملتی تھی اور آج وہی مثالیں تاریخ کے اوراق میں پڑھنے کو ملتی ہے ۔ 8مئی 2019کو سمبل بانڈی پورہ میں ایک کم عمر بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی بتایا جاتا ہے کہ بچی کی کم صرف 3سال ہے جبکہ لڑکے کی عمر21 سال کی ہے کشمیر کی تمام مذہبی جماعتوں بشمول متحد ہ مزاحمتی قیادت اور شیعہ سنی کاڈ نیشن نے اس واقعہ کو اندوہناک ،انسانیت سوز، دل دہلادینے ولا واقعہ قرارا دیا ہے اس واقعے کو کشمیر کے بہترین سماجی و روحانی کلچر کے منہ پر بد نما داغ سے تعبیر کرتے ہوئے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کے بعد ملوث شخص کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے لوگوںسے اپیل کی کچھ شر پسند عناصر اور طاقتیں اس واقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں فرقوں اور قبیلوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے لہذا عوام کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی، یہ واقعہ پیش آنے کے بعد شمال و جنوب میں لوگ سڑکوں پر آئے اور زور دار احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ آئندہ کوئی ایسا دلخراش واقعہ رونما نہ ہو ،سمبل بانڈی پورہ کے واقعہ نے ہمیں دم بخود کیا تھا، ابھی اس کے زخم مند مل نہیں ہوئے کانوں میں اور ایک دلخراش واقعہ کی خبرسنی پڑی ۔بد قسمتی سے بانڈی پورہ کے بعد گاندربل کا واقعہ کا پیش آیا 12مئی 2019کو گاندربل میں پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی 12مئی کے روز مبینہ طور پر ایک اور دو شیزہ کی عصمت دری کا واقع رونما ہونے کے بارے میں والدین کی جانب سے ایک رپوٹ درج کی گئی شکایت میں والدین نے پولیس کو بتایا کہ ہماری بیٹی جس کی عمر 16سالہ ہے اسکی ہمسائیگی میں رہائش پذیر درندہ صفت انسان محمد عاصف وانی ہرن گاندر بل نے مبینہ طور پر ہماری بیٹی کی عصمت دری کی پولیس نے شکایت موصول ہوتے ہی اس درندہ صفت سماج دشمن ملوث شخص کی گرفتاری عمل میں لائی،مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کو سزا بھی ملے گی یا صرف کچھ سال قید رکھ کر کچھ پیسے جرمانہ ادا کر کے اسکو کچھ سال کے بعد رہا کیا جائے گا یامثالی سزا دی جائے گی ،اس کے بارے میںابھی قبل از وقت کچھ نہیں کہاجا سکتا ہے ۔مگر تجربے اور مشاہدے میں یہ بات دیکھنے کو ملی ہے ۔جس نے بھی کشمیر کی عزت مآب ماوں بہنوں کی عزت کیساتھ کھیلا اسکو آج تک مثالی سزا نہیں دی گئی ،یہی وجہ ہے اب کشمیر میں ایسے واقعات رونما ہونے لگے ۔کیونکہ جن شر پسند سماج دشمن انسانوں نے ایسے واقعات انجام دئے اج تک انکو مثالی سزا نہیں دی گئی ۔جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ۔تو ہمیں ایسے درندہ صفت انسانوں کی ایک طویل فہرست سامنے تاریخ کے اوراق پر نظر آتی ہے مندر جہ ذیل ہم کچھ واقعات نقل کرتے ہیں ۔
وادی کشمیر جنت بے نظر میرے اس وطن عزیر میں انسانیت سوز دل کو چھلینی کرنے والا ایسا سب سے بڑا واقعہ ضلع کپواڑہ کے ایک گاوںکنن پوشپورہ میں پیش آیا جب 23فروری1991کو انڈین فوج نے گاوں کا محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی کاروائی شروع کی اسی دوران گھروں سے مردوں کو باہر نکالا گیا اور عوتوں کو گھر کے اندر ہی رہنے کو کہا گیا اسی دوران فوج نے کنن پوشپورہ کی 53خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی اور تا حیات انکو نفسانی اذیت میں مبتلا کر کے رکھا ۔ اس اجتماعی عصمت دری کانشانہ 13سال سے لیکر 80سالہ برزرگ خواتین بنیں نیز اس میں ایک حاملہ خاتوں بھی نشانہ بنی، اس واقعے میں ملو ث افراد کو سزاتو دور کی بات گرفتاری بھی کسی کی عمل میں نہیں لائی گئی ،کنن پوشپورہ کے اس واقعے پر بی بی سی نے تفصیلی ڈاکو منٹری بنائی اس درد ناک کربناک واقعہ پر ایک کتاب ،کنن پوشپورہ ، کے نام سے لکھی گئی مگر آج تک متاثرین ہنوز انصاف سے محروم ہے ۔
4نومبر 2004بدراپائین گاوں میں راشٹر رائفل کے 30اہلکار ماسک لگا کر چہرہ بند کر کے عبد الرشید نامی کے گھر میں تلاشی کاروائی کے بہانے سے گھر میںداخل ہوئے اور اس تلاشی کاروائی کے دوران عبد الرشید کی بیوی اوربیٹی عصمت دری کی اس وقت کے فوجی ترجمان مسٹر لیفنٹ بٹرا نے اس عصمت دری کے متعلق بیان دیا کہ یہ فوج پر الزام لگایا گیاہے ۔ مگر اس وقت میڈیکل ٹسٹ کئے گئے اور میڈیکل رپوٹ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ماں بیٹی کی عصمت دری کی گئی ہے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ نے ا نکوائری کے احکامات صادر کئے مگر تا ایں دم تحریر ملوث فوجی اہلکار قانون کی گرفت سے باہر ہے ۔
یہ دو واقعات بطور نمونہ ہم نے پیش کئے ورنہ بہت سارے ایسے عصمت دری کے واقعات فوج نے انجام دئے جنکا احاطہ کرنا ناممکن ہے ٹھیک ایسا ہی واقعہ سوپورہ اور اسلام اباد میں بھی فوج نے انجام دیا ،ہم یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اگر ان واقعات میں ملوث افراد کو سزا دی گئی ہوتی تو آج ایسے ہی واقعات رونما نہیں ہوتے راقم کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ نشاندی کرنا حقائق کو منظر عام پر لانا تاریخ کو محفوظ کرنا مقصد ہے ۔
اس کے بعد ایک نظر ڈالتے ہیں عام درندہ صفت انسانوں پر اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کشمیری عوام کے اندر فطری طور بے حیائی اور بے شرمی نہیں ہے البتہ یہ بے حیائی بے شرمی جرائم غیر ریاستی باشندوں نے یہاں لائے اور آہستہ آہستہ پھر یہاں کچھ باشندے بھی اس رنگ میں رنگ گئے غیر ریاستی باشندوں نے کشمیر میں آکر کون سے گل کھلائے ہیں یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں راقم نے اس پر ایک اہم آرٹیکل ،کار خیر کے نام پر جرم عظیم نہ کریں،کے نام سے لکھا تھا اس آرٹیکل میں ان کے تمام کارناموں کو کما حقہ قلم بند کیا ہے ۔
2007ء میں ایک معصومہ طالبہ تابندہ غنی نامی ایک لڑکی سکول سے واپس گھر آرہی تھی راستے میں دو غیر ریاستی جن کو عرف عام میں بہاری کہا جاتا ہے انہوں نے اس طالبہ کی عصمت دری کی عصمت ریزی کرنے کے بعد بڑی بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا اس قتل ناحق کے خلاف سر حدی ضلع کپواڑہ کے لوگ سڑکوں پر آئے اور زور دار احتجای مظاہرے کئے پولیس حرکت میں آگئی اس جرم عظیم میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا کوٹ نے انکے لئے سزا بھی تجویز کی مگر اج تک ان کو سزا نہیں دی گئی یہ افسوناک واقعہ پیش انے کے بعد عصمت ریزی کے واقعات نہیں تھم گئے بلکہ مزید واقعات رونما ہوئے اسکی وجہ یہ ہے کہ مجرموں کو سزا نہیں دی گی ۔
2009ء میں شوپیاں کے اندر ایسا ہی دلخراش واقعہ رونما ہوا جس میں اور دو لڑکیوں کی عصمت ریزی کی گئی بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں وردی پوش افراد ملوث پائے گئے لہذا بات کو سرے سے ہی دفن کیا گیا بنت حوا کی تذلیل میں ملوث افراد قانون کے کہٹھرے میں کھڑا نہیں کیا گیا اس میں بات کوئی دو رائے نہیں ایسا کرنے سے قانون نافذ کرنے والے اداراے اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو عام لوگوں کی نظر میں بے قدرے کرتے ہیں ۔
ماضی قریب 2018ء میں جموں میں ایک گھر بکروال نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی گئی عصمت دری کرنے کے بعد بے رحمی سے اسکو قتل کیا گیا اور اس واقعے میں تین ہندو انتہاء پسند ملوث پائے گئے مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی المیہ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان درندوں کو پچانے کی کوشش بی جے پی کی طرف سے کی جا رہی ہے دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مجرموں کو سزا نہیں دی گئی ،ضرورت اس مر کی ہے جو بھی اشخاص ان واقعات میں ملوث پائے گئے ہے ہر ایک کو سزا دی جائے تاکہ دوبارہ ایسی بہیودہ حرکت کرنے کی ہمت کوئی نہ کرے بنت حوا کو ہمہ گیر تحفط دینے کی ضرورت ہے ۔سانحہ سمبل کے فوراََ بعد جس طرح شمال و جنوب میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اس سے واضح عندیہ ملتا ہے کشمیریوں میں ابھی بھی اخلاقی رمق باقی ہے انہیں اخلاقی زوال بے حیائی ،ناانصافی ، کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے ۔یہ ساری چیزیں اس قوم کی اخلاقی برتری کی آئینہ دار ہے ۔گردش دہر کے ہاتھوں ماروں پہ ماریں کھانے کے بعد بھی آج بھی اہل کشمیر انسانیت کے جیتے جاگتے نمونے ہیں ۔کشادہ ذہنی ،مہمان نوازی ،اخلاقی اوصاف کے پیکر و مجسم ہے ۔بنت حوا کو مکمل تحفظ فرہم کرنے کی ضروررت ہے ماضی میں بنت حوا کی تذلیل جس نے بھی کی انکو مثالی سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ ائندہ مستقبل میں کوئی بھی ایسا ناخوش گوار اواقعہ رونما نہ ہو سکے ،اس کے ساتھ ہر فرد ہے ملت میں مقدر کا ستارہ کے مصداق ہر ایک کو اپنی ذ مہ داری نبھانی چاہئے معاشرے میں ہر فرد ایک ذمہ دار ہے لہذا اس حوالے سے ہر ایک غفلت کی نیند چھوڑ کر اپنی ذمہ داری نبھائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں