38

مدارس کےروشن باب پرچھائی چھائیاں

شاکی کے قلم سے

مدارس کے شب وروز سے جو لوگ آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ مدارس کے قابل فخر اورقابل ذکر پہلووں میں سے اساتذہ کا احترام ایک سنہرا باب ہے مدارس سے ناواقف لوگ شائد اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ مدارس کے طلبہ وطالبات اپنے اساتذہ کا کس قدر دل وجان سے احترام کرتے ہیں اپنے اساتذہ کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں ایک معمولی سا مدرسہ کا استاد اپنے جوتے خود اٹھا کر جارہا ہو تو طلبہ اس بات کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہوتے ہوۓ ہمارا استاد اپنے جوتے خود اٹھاۓ…..
بلکہ میں نے اپنے استادوں کے جوتے اٹھانے پر طلبہ کی آپس میں تلخیاں دیکھی ہیں ایک کہتا ہے میں اٹھاؤں گا دوسرا کہتا ہے میں اٹھاؤں گا جب استاد اپنا احترام اپنے شاگردوں میں دیکھتا ہے تو اسکے دل کی تہہ سے دعا نکلتی ہے آج ہم جو مدارس کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں یہ انہی دلی دعاؤں کا ثمرہ ہیں بقیہ یاد رہے مہتمم عموما میری مراد نہیں بالخصوص وہ مہتمم قطعا مراد نہیں جو اپنے مدرسین کو بلاوجہ ستاتے ہیں انکا استحصال کرتے ہیں ایسے مہتممین کو میں اسلامی فرعون کہتا ہوں یہ میری خصوصی اصطلاح ہے…خیر
یہ تمہید سمجھنے کے بعد اب میں اپنے اصل مدعی کیطرف آتا ہوں کہ اسلامک سکول وقت کی اہم ترین ضرورت ہے الحمدللہ میرے مادر علمی یعنی بنوری ٹاؤن میں بھی اس کا ایک وقت سے آغاز ہوچکا ہے……..
لیکن بعض اسلامک سکول فیسیں سمیٹنے اور محفوظ بنانے کے لئے اسلامک روح کو مسخ کررہے ہیں اس کے بہت سارے پہلووں ہیں لیکن ایک مسئلہ انتہائی سنگین اور سنجیدہ ہے اور وہ اساتذہ کی ڈنکے کی چوٹ پر بلکہ فیس کی بیماری کیوجہ سے مجرمانہ بے توقیری اور بے اکرامی ہے …..کہ اساتذہ کو بالخصوص قرا کو بہت زیادہ بے توقیر کیا جاتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچہ کی شکایت پر استاد کی دفتر میں بچہ اور اسکے والدین کے سامنے پیشی یہ بچہ کے لئے زہر قاتل ہوتا ہے بعدازاں اس بچہ کو وہ استاد دل سے نہ پڑھاتا ہے اور نہ ہی اسکو کچھ کہتا یعنی اعملوا ماشئتم کا عملی مصداق وہ بچہ بن جاتا ہے جو اسکو بدتمیزی پر جری کردیتا ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ استاد کو دفتر بلوا کر لفافہ ہاتھ میں پکڑا کر فورا چلتا کرتے ہیں یہ بھی بڑھتا جارہا ہے
بلکہ ان اسلامک سکولوں کے اساتذہ میں یہ ایک چھیڑ خانی بن چکی ہے کہ جس استاد کو چھیڑنا ہوتو اسکو کہا جاتا ہے میاں آپکا لفافہ تیار ہوچکا ہے…….
اس بے توقیری میں سب حدوں کو پھلانگنے والوں میں بیت العلم اور البدر سکول ہیں جنہوں نے اپنے اساتذہ کو نفسیاتی بنایا ہوا ہے میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ بیت العلم اور البدر میں استاد سے زیادہ سٹوڈنٹ کی عزت ہے اور اسی روش کیوجہ سے بیت العلم اور البدر کے بچے
عموما انتہائی بدتمیز پاۓ جاتے ہیں کیونکہ اساتذہ کے ہاتھ پاؤں ان لوگوں نے باندھ کر رکھے ہوۓ ہیں مفتی حنیف صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے خیر خواہی کے جذبہ سے کہہ رہا ہوں اور اساتذہ کو اور بیت العلم سے وابستہ ہر ملازم پر اس قدر پریشر رکھا جاتا ہے کہ عموما انکے لوگ نفسیاتی ہوجاتے ہیں میں تو انکو دور سے پہچان لیتا ہوں کہ یہ البدر کا معتوب ہے خیر نام ادارہ کا اس لئے لکھا کہ انکے ہاں بہت زیادہ تجاوز پایا جارہا ہے بقیہ اساتذہ کو کنٹرول میں رکھنا میں سمجھتا ہوں کہ اداروں کی مجبوری ہوتی ہے لیکن اس طور پر کنٹرول کرنا کہ وہ نفسیاتی بن جاۓ یہ ظلم ہے بلکہ یار لوگ بتاتے ہیں کہ ہمیں تو خواب میں بھی مفتی حنیف صاحب کے مشورے ستا رہے ہوتے ہیں ….
اس طور پر ان سکولوں سے اسلامک روح مسخ ہوجاتی ہے …مدارس میں استاد کے احترام کو ہو بہو کاپی کر کہ اسلامک سکولوں میں پیسٹ کریں گے تو یہ سکول اسلامی روح زندہ رکھیں گے ورنہ فیکٹری کا روپ ہی ہوگا بقیہ اقراروضۃ الاطفال کی کہانی بھی اس البدر سے زیادہ مختلف نہیں ہے اور النخلہ تو اس سے بھی سو ہاتھ آگے ہے
بہرحال اساتذہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے انکو والدین اور طلبہ کے سامنے رسوا نہیں کرنا چاہیے…
اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو
والسلام اخوکم انعام الحق عفی اللہ عنہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں