79

روزہ طب نبوی کا معجزہ

قاری نصیر احمد پیر

خالق کا ئنات نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا، لیکن انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب عطا فرمایا، اس اشرف المخلوقات کے لئے کون سی چیز ٹھیک ہے ۔اور کون سی چیز غلط،جو چیزٹھیک ہے اسکو انسانوں کے لئے حلال قرار دیا ،اور جو چیزیں انسانوں کیلئے مضر ہے اس کو اپنی پسند دیدہ مخلوق ابن ادم کیلئے حرام قرار دیا ،یہ خالق ار ضا وسما ء کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اپنے حکم سے ہمیں اشر ف المخلوقات بنایا ،مگر اس منصب کی قدر ہمیں قدر کرنی چاہئے ،اب چونکہ مندرجہ بالا تمہیدسے یہ بات سمجھنی بہت زیادہ سان ہے روزہ ایک طبی نبوی کا معجزہ ہے روزہ کو خالق کائنات نے اسلام کے بنیادرکن قرار دیا ہے ۔ روزہ کے بے شمار فائدے ہے روزہ ایک عظیم عبادت اسکی جزا بھی بہت بڑی ہے لیکن علماء کرام نے لکھا ہے جس چیز پر جتنا بہت بڑا انعام ہو تا ہے اس چیز کی نا قدری اگر کی جائے تو خالق کائنات کے یہاں اس کی اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوتی ہے ۔ ایک حدیث مبارک میں آتا ہے اس حدیث مبارک کو مرحوم شیخ محمد زکریا نے اپنی کتاب فضائل اعمال میں نقل کیا ہے ۔ایک مرتبہ خاتم المرسلین ۖ مسجد میں تشریف لائے اور صحابہ کرام کو حکم دیا کہ ممبر شریف کے قریب ہو جاو ،روای فرماتے ہیں جب ہم ممبر شریف کے قریب ہوئے تو کالی کملی والے آقاحضور ۖ نے فرمایاحضرت جبربیل امین علیہ السلام تشرئف لائے تھے اور انہوں نے اس شخص کیلئے بد دعا دی جو ماہ رمضان المبارک کو پائے اور اپنی مغفرت نہ کرا سکا (یعنی جس نے ماہ رمضان المبارک کی قدر نہیں ان مغفرت رحمت کے ایاموں سے فائدہ نہیں اٹھایا )ایسے شخص کیلئے فرمایا ،یا اللہ اس کو ہلاک و بر باد فرماحضورۖ نے فرمایا جب جبریل امین علیہ السلام نے دعا کی تو میں نے اس کی اس دعا پر امین فرمایا ۔اس حدیث مبارک کو سامنے رکھ کر تھوڑا غور وفکر کر کے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ اگر ہم نے اس رمضان المبارک کی قدر کی یقیناہم کامیاب ہوئے اور ہم خوش نصیب ہے اور اگر خدا نخواستہ ہم نے اس کی بے قدری کی تو ہم بد نصیب کہلائے جائے گے ۔بہر کیف مالک رارضا وسما سے یہی میری دعا ہے کہ مالک ارض و سما ہمیں اس مہینے کی قدر کرنی نصیب فرمائے اور ہمیں رحمتوں سے نواز دے ہمیں مشکلوں سے نکال دے ،ان مقدس ایام کی قدر کرنی نصیب فرمائے اور ہمیں روزوں کے فیض و برکات عطا فرمائے (امین یا رب العالمین )
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ روزہ جہاں ایک عظیم عبادت ہے اور روح کی پاکیزگی کا سامان ہے وہیں پر روزہ انسان کے بے شمار جسمانی امراض کے لئے بھی دوا ہے یعنی روزہ کو طبی نبوی کا معجزہ قرارا ددیا ہے (نوٹ میرا دوسرا کالم روزہ اور میڈیکل سائنس ،اس کالم میں طبی نبوی کے معجزے پر تفصیلی دلائل سے روشنی ڈالی جائے گی )روزہ جہاں جسم اور روح کی بیماریوں کا علاج ہے وہیں پر روزے کے معاشرتی فائدے بھی بہت زیادہ ہے ۔مثلاََایک شخص رات کے تین بجے اٹھتا ہے سحری کھا کر شام کے افطاری ٹائم تک بحکم خدا کچھ بھی نہیں کھاتا پیتا ہے۔ تمام نعمتیں سامنے موجود ہونے کے باو جوود بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا ہے پورا دن خالی پیٹ رہتا ہے بھوک پیاس کی شدت اس روزہ دار کو ستاتی ہے لیکن اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کچھ نہیں کھاتا پیتا ہے ۔اولاََ یہ روزہ دار شخص بہت ساری بری عادتوں پر کنٹرول آسانی سے حاصل کر سکتا ہے کیونکہ یہ دوران روزہ ایک مشق کرتا ہے اشیاء خوردنی سامنے ہوکر بھی نہیں کھاتا ہے جیسے اس روزہ دار نے احکم الحاکمین کے اس حکم پر عمل کیا ٹھیک یہ روزہ دار احکم الحاکمین کے دوسرے حکموں پر بھی عمل کرے گا اس کے اندر یہ جذبہ پیداہوتا جاتا ہے۔ اس ماہ رمضان المبارک میں گویا یہ پوری زندہ گی تقوی سے گزرا ے گا اور یہی چیز اس شخص کے لئے دونوں جہانوں میں کامیابی ہے ۔
دوم روزہ کا دوسرمعاشرتی فائدہ ،جب ایک شخص خود بھوک پیاس برداشت کرتا ہے اس کٹھن مرحلے سے عملی طور گزرتا ہے تو اسکے اندر یہ احساس خود بخود پیدا ہو جاتا ہے ۔کہ جو لوگ ہمارے معاشرے میں مفلوک الحال ہے ۔ان پر کیا گزرتی ہوگی وہ بارہ مہینے کیسے بسر کر تے ہونگے لہذا روزہ دار کے اندر خود بخود یہ دوسرا جذبہ مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنے کا پیدا ہوجاتا ہے یہ صرف ماہ رمضان المبارک کے روزوں سے حاصل ہو جاتا ہے ۔
دل میں پھر سے خوشیوں کا پیغام آرہا ہے مبارک ہو مومنوں پھر سے رمضان آرہا ہے
وہ سحری کا مزہ ،وہ افطار کی بھوک وہ قران مجید کی تلاوت، وہ نماز کا معمول
وہ روزے کی برکت وہ روزے کا نور مبارک ہو مومنوں پھر ست رمضان آرہا ہے
رمضان المبارک کا ہر ایک منٹ بہت زیادہ قیمتی ہے علماء نے لکھا ہے ۔جس کا رمضان المبارک منتشر اور بے ترتیب گذرے گا اس کا پورسال انتشار و بے تر تیب گزرے گا ،اس کے بر عکس جس کا رمضان المبارک مجتمع قیمتی با ترتیب گزرے گا ،اسکا پورا سال با ترتیب گزرے گا ۔گویا کہ رمضان المبارک کا اثر براہ راست انسان کے پورے سال کے معمولات زندہگی پر پڑتا ہے ۔
رمضان المبارک میں روزے فرض بھی ہے قرض بھی ہے روزہ انسان کے نظام ہاضمہ کو ٹھیک کرنے میں بھی اپنا ایک اہم رول ادا کرتا ہے روزہ انسان کے جسم و روح کی بیماریوں کا علاج ہے۔روزہ رب العالمین کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک بہترین اور سنہری موقع ہے ۔
روزہ مسلمان کوخالق کائنات کا محبوب بناتی ہے ۔روزہ کی برکت سے بہت ساری بری عادتیں چھوٹ جا تی ہے اور ان بری عادتوں کو چھوڑنے میں مشکلات کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا ہے بلکہ آسانی سے وہ بری عادتون سے اپنی جان چھڑوا سکتا ہے ۔روزہ سے ایمان و ایقان میںپختگی آتی ہے ۔روزہ ایک نور ہے جس سے انسان کا ظاہر و باطن روشن ہو جاتا ہے ۔روزہ دار کے لئے احکم الحاکمین نے دنیا و اخرت میں کامیابی لکھی ہے اور دونوں جہانوں میں اسکے لئے اعزار و اکرام لکھا ہے ۔مشکوة المصابیح ۔میں ایک حدیث مبارک مصنف نے نقل کیا ہے جس کی رووایت سہل بن سعد کرتے ہیں فرماتے ہیں رسول اللہ ۖ نے فرمایا جنت کے اٹھ دورازے ہے ان میں سے ایک دورازے کا نام الریان ہے (روزہ دار کا اعزاز یہ ہوگا قیامت کے دن )اس دروازے سے صرف روز دار ہی جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔روزہ سے انسان تقوی گزار بن جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں