مولوی پر بچی سے زیادتی کا الزام جھوٹا نکلا،الزام کیا چیز ہھتیانے کے لئے لگایا گیا؟ 409

مولوی پر بچی سے زیادتی کا الزام جھوٹا نکلا،الزام کیا چیز ہھتیانے کے لئے لگایا گیا؟

شجاع آباد (چنارنیوز)
تین چار روز سے شوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو میں ایک شخص بتا رہا ہے کہ اس کی بچی گاوں کے قاری مولوی عبداللہ کے پاس سپارہ پڑھنے جاتی تھی لیکن اکثر روتے ہوئے واپس آتی تھی لیکن جب اس سے رونے کی وجہ پوچھی جاتی تو وہ کچھ بتاتی نہیں تھی۔ بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ایک دن جب وہ روتی ہوئی واپس آئی تو اس کی والدہ نے بچی سے سختی

سے پوچھا کہ وہ کیوں روتی ہے
اور سپارہ پڑھنے جانے سے انکار کیوں کرتی ہے تو بچی نے بتایا کہ قاری صاحب اس سے زیادتی کرتے ہیں اور اگر وہ روئے تو اس کے منہ پر تکیہ رکھ دیتے ہیں۔جب وڈیو وائرل ہوئی تو پولیس نے بھی تحقیق کی زحمت گوارہ نہ کی اور مسجد کے قاری کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کردیا گیا ،لیکن اب تحقیق اور عوام علاقہ سے پتہ چلا ہے کہ جس لڑکی کے ساتھ مولوی کی زیادتی کا الزام لگایا گیا ہے وہ کوئی اور نہیں مولوی صاحب کی بیوی نکلی ہیں ،جنکا تین چار ماہ قبل مسجد میں اعلانیہ شرعی نکاح ہوا تھا جسکے گواہان بھی موجود ہیں اور لڑکی کے والد نے خوشی ورضا مندی کے ساتھ اپنے خالہ زاد بھائی مولوی عبدا للہ کے ساتھ اپنی بیٹی کو رخصت کیا تھا ،نکاح کے وقت لڑکی کی عمر چودہ یا پندرہ سال بتائی گئی تھی مسجد کے خطیب عبداللہ نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ میمونہ نامی لڑکی سے مسجد میں عزیزوقارب اور نمازیوں کی موجودگی میں شرعی نکاح ہوا تھا ،میمونہ نہ میرے پاس کھبی بھی پڑھنے نہیں آئی ہے ،صرف گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میرے سسر نے بے بنیاد الزمات اور بہتان عائد کیئے ہیں ،انہوں نے ویڈیو بیان میں یہ بھی بتایا کہ لڑکی والوں نے ڈھائی مرلہ کا مکان اپنی بچی کے نام لکھوایا ہوا ہے ،بتایا جارہا ہے کہ صرف زمین ہتھیانے کے لئے سارا پروپیگنڈا کیا گیا ہے مسجد کے مولوی پر بے بنیاد اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر اہلیان علاقہ نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ مولوی صاحب انتہائی شریف النفس انسان ہیں انکی کردار کشی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے

سابقہ پوسٹ پہ چند نابغے کہہ رہے تھے کہ مولوی عبداللہ نے تو لڑکی سے نکاح کا دعوی کیا ہی نہیں اور ناں ہی مولوی صاحب کے وکلاء کے عدالت میں یہ بات کی ہے لیکن تم ویلے وکیل بن کے اس کا نکاح کروا رہے ہوان کیلئے یہ ویڈیو پیش خدمت ہے، مجھے معلوم ہے کہ ماننا انہوں نے اب بھی نہیں کہ ایک مولوی بے قصور نکل آئے یہ ان سے کیسے ہضم ہو سکتا ہے، اور ان بزرجمہروں کی معلومات کا ٹوٹل انحصار بچی کے والد کی تین منٹ کی ویڈیو ہے جو کہ مدعی بھی ہے، دوسری طرف محلہ کے بیسیوں لوگوں کی ویڈیو ہے جو مولوی صاحب کو بےقصور بتا رہے ہیں اور نکاح کے گواہ بھی ہیں، لیکن نہیں جی، انہیں تو ایک بندے کی بات ہی ماننی ہے کیونکہ وہ مولویوں کے خلاف ہے اور مذہبی لوگوں کے خلاف تو یہ لوگ کتے کی مافق رال ٹپکاتے باتیں ڈھونڈتے پھر رہے ہوتے ہیں سن لیں، اہل محلہ کی گواہی تو پہلے ہی آ چکی تھی اب مولوی صاحب نے بھی نکاح کا دعوی کر دیا ہے اور ان کے بقول عدالت میں گواہ بھی پیش کیے ہیں اگر تھوڑی سی غیرت نام کی چیز تمہارے پلو میں ہے تو ڈوب کے مت مرو، کیونکہ بھائی ہو تم ہمارے لیکن کم از کم لوٹ ہی آؤ، جو بہتان باندھے ہیں ان پہ چپکے سے معافی ہی مانگ لو، اللہ تمہیں ہدایت نصیب کرے.عمار خان یاسر

Posted by Ammar Khan Yasir on Wednesday, 17 April 2019

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں