مایوسی نہیں ۔ عزم جواں رکھیں ۔یہ اپنا وطن ہے (تحریر:: محمد عاصم حفیظ ) 69

یہ اپنا وطن ہے

(تحریر:: محمد عاصم حفیظ )


ارض پاک میں آئے روز لبرل و سیکولر طبقے کی جانب سے مختلف قسم کی سرگرمیوں سے ایک عجیب سی فضا بن جاتی ہے ۔ تعلیمی اداروں کی ڈانس پارٹیاں ہوں ۔ کہیں ہولی منانا ہو یا میڈیا پر فحاشی و عریانی کا چلن ۔ عورت مارچ ہو یا سڑکوں پر لگے اشتہارات ۔ پیزا ڈیلیوری کےلئے خواتین کی بھرتی ہو یا ٹیکسی سروس کی خاتون ڈرائیورز ہر واقعہ اور ہر سرگرمی بے چین سی کر دیتی ہے ۔ 
لیکن ہمارے ہی معاشرے میں تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔ یقین مانیں دینی دعوت و تبلیغ کی جتنی آزادی ارض پاک میں میسر ہے آپ اس کا تصور کسی عرب یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں بھی نہیں کر سکتے ۔ یہاں نہ تو خطبات جمعہ مانیٹر ہوتے ہیں اور نہ مساجد کی تبلیغی سرگرمیوں کے لئے اجازت لینا پڑتی ہے ۔ بڑے دینی سیمینارز اور اجتماعات کی اجازت لینا ضروری ہے لیکن یہ مراحل انتہائی باآسانی طے ہو جاتے ہیں ۔ گھروں میں تبلیغی سرگرمیوں حتی کہ شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی خطاب و دروس رکھے جاتے ہیں ۔ ایسا دیگر اسلامی ممالک میں ممکن نہیں ۔ حققیت یہی ہے کہ ارض پاک میں دینی سرگرمیوں دعوت و تبلیغ کےلئے ایک کھلا میدان میسر ہے اور بہت سے دینی ادارے و تنظیمیں بھرپور فائدہ بھی اٹھا رہی ہیں ۔ ہر مسلک کی بڑی دینی جماعتوں کیساتھ دین سیکھانے کےلئے کئی جدید ادارے اور تنظیمیں بھی معاشرے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب رہی ہیں ۔ جہاں ایک طرف بڑے تعلیمی اداروں میں مخلوط ماڈرن اور لبرل سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے تو وہیں ایسی تنظیمیں اور ادارے بھی خوب پھیلے پھولے ہیں جو نوجوان نسل کو دین کی طرف لا رہے ہیں ۔ آپ فاسٹ ۔ لمز جیسے ماڈرن پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اسلامک سوسائٹیز اور ان کے تحت ہونیوالے بڑے بڑے سیمنارز دیکھ سکتے ہیں ۔ الہداء انٹرنیشنل ۔ النور انٹرنیشنل ۔ یوتھ کلب کے تحت ایلیٹ کلاس اور ایسا طبقہ جو کہ صرف انگریزی سمجھتا ۔ بولتا ہے اور طرز زندگی اپناتا ہے ان کےلئے دعوتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں ۔ مولانا طارق جمعیل ۔ ثاقب رضا مصطفائی ۔ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی ڈاکٹر حماد لکھوی اور ایسے بے شمار نام ہیں جو کہ یونیورسٹیوں اور کالجز کے بڑے اجتماعات میں مدعو کئے جاتے ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان طلبہ و طالبات ان کا خطاب سننے کےلئے حاضر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح خواتین کےلئے ڈاکٹر نگہت ہاشمی ۔ ڈاکٹر کنول قیصر ۔ سارہ چوہدری ۔ جماعت اسلامی ۔ الہداء و النور انٹرنیشنل سمیت دیگر کئی تنظیموں کے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں ۔ ارض پاک میں ہر طبقے کےلئے دینی رہنمائی کا بھرپور انتظام موجود ہے ۔ ہر مسلک کے بڑے بڑے مدارس دینی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں ۔ دینی جماعتوں کے تحت تبلیغی پروگرامز بڑے اجتماعات اور دروس منعقد ہوتے ہیں ۔ ان کی یوتھ ۔ اساتذہ کرام ۔ وکلاء ۔ خواتین اور دیگرطبقات کےلئے الگ الگ تنظیمیں موجود ہیں ۔ ہمارے ہاں دینی سرگرمیوں کےلئے فنڈز دینے کا رجحان موجود ہے اور اسی سے یہ سب ممکن ہو پاتا ہے ۔ 
الحمدللہ ۔ ارض پاک میں دعوت و تبلیغ کی ازادی دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے ۔ تو پھر پریشانی کیسی اور کرنے کے کام کیا ہیں ؟؟۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ گلوبل ویلیج بنتی اس دنیا میں سوشل میڈیا کی یلغار اور سماجی تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے ۔ اعتراضات ۔ تشویش ۔ مایوسی اور بد دلی پھیلانے کی بجائے اپنے کام کو بڑھا لیا جائے ۔ دینی طبقہ اپنے وسائل اور افرادی قوت کو بہتر انداز میں استعمال کرے ۔ بدلتے حالات کے تحت منصوبہ بندی اور انداز بدل لئے جائیں ۔ اس گلوبل ویلیج میں دعوت دین کے انداز سیکھے جائیں ۔ جہاں ممالک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے محتاج ہوں ۔ ملک بیرونی قرضوں پر چلایا جا رہا ہو۔ عالمی معاہدے ہوں اور بیرونی دباؤ تو وہاں ماڈرن کلچر کو بزور طاقت روکا نہیں جا سکتا ۔ حکمت عملی تبدیل کرنا پڑتی ہے ۔ اگر لبرل و مغرب زدہ طبقہ اپنا پیغام پھیلا رہا ہے تو آپ کو کس نے روکا ہے ۔ چند سو کا عورت مارچ ہوتا ہے تو پریشانی کیسی ۔ دینی جماعتیں ہزاروں کی خواتین کانفرنس منعقد کرکے اپنا پیغام پھیلا سکتی ہیں ۔ حجاب ڈے منایا جاتا ہے ۔ میڈیا سیکولر سہی لیکن دینی پروگرامز ہوتے ہیں ۔ دینی سکالرز کو بلایا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا اور اپنے چینلز بنانے کے مواقعے موجود ہیں ۔ آپ انہیں استعمال کریں۔ دراصل دور حاضر میں معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔ آپ معاشرے کے کسی بھی طبقے کو بے دین ۔ ملحد یا کسی بھی ٹیگ کے تحت نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ اگر ثقافتی یلغار آپ کے گھروں میں حملہ آور ہے تو آپ کو مقابلہ کرنا سیکھنا ہو گا ۔ ملٹی نیشنل کلچر کو سمجھنا ۔ مارکیٹ کے اصولوں کو بدلنے کی جدوجہد کرنا ۔ حکومتی مجبوریوں کا ادراک ہونا ۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنا ۔ ماڈرن ازم اور الحاد کی وجوہات پر نظر رکھنا ۔ فحاشی وعریانی کو بے نقاب کرنا ۔ میڈیا سے نفرت کی بجائے اس کی اصلاح اور اپنے مقاصد کے حصول کےلئے استعمال کرنا ۔ جدید ذہن سے مکالمے کےلئے سکالرز تیار کرنا ۔ سوشل میڈیا پر دعوتی اسلوب اپنانا اور بہت کچھ کرنا ہو گا ۔ اپنا کام اور لگن بڑھانا ہو گی ۔ معاشرے کے بدلتے رجحانات کو سمجھنا ہو گا ۔ صرف فتووں ۔ اظہار نفرت اور کنارہ کشی سے کام نہیں چلے گا ۔ آپ کا کام کوئی دوسرا طبقہ نہیں کرے گا اور نہ ہی امید رکھنی چاہیے ۔ اگر یہ سوچ رکھا ہے کہ میڈیا خودبخود ہی اسلامی روایات کا پابند بن جائے ، ملٹی نیشنل ادارے اپنی سوچ دینی کر لیں تو اسے صرف ایک خوش فہمی ہی قرار دیا جا سکتا ہے ، ایسا نہیں ہوتا ۔ اگر اپنا کلچر بچانا ہے ، دینی روایات کی پاسداری کرنی ہے تو اپنا کام خود ہی کرنا ہوگا اور میدان عمل میں نکلنا ہوگا ۔

یقین مانیں ارض پاک میں دین کے حوالے سے تعلیم و تبلیغ اور سرگرمیوں کی جس قدر ازادی موجود ہے آپ بہت سے دیگر اسلامی ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکے ۔ اگر اسلامی قانون کی خواہش ہے تو پہلے معاشرے کو قائل کرنا ہو گا ۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ دینی طبقے کو کارنر کیا جا رہا ہے تو اپنے لئے نئی حکمت عملی بنانی ہو گی ۔ راستہ بدل کر طرز عمل کی تبدیلی اور مختلف طریقہ کار کے ذریعے آپ اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں ۔ راستے موجود ہیں مواقع ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔ اپنا کام بڑھایا جا سکتا ہے اور سمت کا درست تعین کرکے منزل حاصل کی جا سکتی ہے ۔ مایوسی نہیں پریشانی نہیں ۔ بس عزم جواں رکھیں یہ اپنا وطن ہے ۔ یہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنا ارض پاکستان ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں