معاشرے کی بے حسی 93

معاشرے کی بے حسی

شاکرہ مفتی عمران

وہ لوگوں کی نظروں سے بچتے بچاتے بڑی مشکل سے گھر پہنچی جہاں اس کے دو بچے اسکے انتظار میں بھوکے بیٹھے ہوئے تھے ماں پر نظر پڑتے ہی انکی آنکھوں میں چمک آگئی اس نے چادر اتاری ایک طرف بیڈ پر پھینکی اور ہاتھ میں پکڑے کھانے کے شاپر کو لے کر کچن میں آگئی بچے بھی بھوک سے تڑپتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے کچن میں آگئے

امی کیا لائی ہیں بہت بھوک لگ رہی ہے جلدی کھانا دے دیں اتنی دیر لگا دی آپ نے تو کہا تھا کہ میں ماموں کے گھر جا رہی ہوں کام سے جلدی آجاونگی اور آپ نے اتنی دیر لگا دی.. چھوٹی 7 سال کی بیٹی مایہ نے سوال کیا

بیٹا ماموں گھر پر نہیں تھے انکے انتظار میں دیر ہو گئی چلو کھانا کھا لو دیکھو میں تم لوگوں کے لیے آج کیا لائی ہوں پیزا یور فیورٹ اینڈ پیزا فرائیز اب مزے سے کھاؤ اس نے جلدی جلدی کھانا ٹیبل پر لگایا
بڑے دنوں بعد آج بچوں کو اچھا کھانا نصیب ہوا تھا بچے بھی بھوکے تھے تو جلدی جلدی ٹوٹ پڑے

امی آپ بھی کھائیں کیوں نہیں کھا رہیں بڑے بیٹے نے جو دس سال کا تھا پیار سے ماں کی طرف دیکھ کر بولا

نہیں بیٹا ماموں کے گھر چائے اور بسکٹ کھا لئے تھے اب بھوک نہیں اس نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو چھپانے کی کوشش کی اور ہنس کر بچوں کو تفصیل بتانے لگی ماموں تم لوگوں کو بہت یاد کر رہے تھے کہہ رہے تھے بچوں کو پیار کرنا..
امی ہم کب جائیں گے ماموں کے گھر.؟ ہمیشہ آپ اکیلی ہی چلی جاتی ہیں اب کی بار ہم بھی جائیں گے وہاں سب کے پاس اتنے اچھے کھلونے ہوتے ہیں ہمیں بہت مزہ آتا ہے

بیٹا آپ لوگ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں چلیں گے کسی دن ان شاءاللہ..اب سو جاؤ اور زیادہ باتیں مت بناؤ.. اس نے یہ کہہ کر خود بھی آنکھیں موند لیں مگر آنکھیں بند کرتے ہی بیتے پل اس کے سامنے آگئے خوف سے دوبارہ آنکھیں کھل گئیں اور نا چاہتے ہوئے بھی آنکھیں بھیگنے لگیں

وہ منظر وہ کبھی نہیں بھول سکتی جب ایک اجنبی شخص کی کال اس کے موبائل پر آئی تھی

آپ حنا صاحبہ ہیں.. وہ اپنا یہ نام سن کر چونک گئی کیونکہ اس نام سے بس اسکا شوہر اسکو پکارتا تھا اصلی نام تو اسکا گلناز تھا جی مگر آپ کون..؟

دیکھیں جی یہاں بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور جو لوگ اس میں زخمی ہوئے ہیں ان میں یہ صاحب ہیں انکا موبائل کھولا تو ڈائلنگ میں سب سے اوپر یہ نام اور نمبر تھا کوئی ایک گھنٹے پہلے شاید آپ کی بات ہوئی ہو

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا ہوا انہیں کہاں ہیں وہ کونسے ہسپتال میں…؟ اس نے گھبراہٹ میں ایک ساتھ سارے سوال کر دئیے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کوئی اس کے ساتھ مزاق کر رہا ہے یا واقعی اسکی زندگی میں طوفان آچکا ہے نہ آنسو نکل رہے تھے نہ وجود ہل رہا تھا لیکن دل کی دھڑکن بے قابو ہو چکی تھی وہ لمحہ وہ کبھی نہیں بھول سکے گی جب اس کے شوہر بدر نے اسے ہمیشہ کے لئے دربدر کر دیا تھا وہ اسے تنہا چھوڑ کر چلا گیا تھا لوگوں کی بھیڑ میں اسے تماشا بنانے کے لیے اور خود اکیلا تن تنہا سکون کی نیند سونے چلا گیا تھا اتنا بھی نہیں سوچا کہ اس کے بغیر وہ اور بچے کیسے رہیں گے ہاں یہ بے وفائی ہی تو تھی جو وہ اکیلے در در کی ٹھوکریں کھا رہی تھی کبھی اس در پر کبھی اُس در پر لوگ اسے کام کا آسرا دیتے تھے اور بن شوہر کے سمجھتے تھے کہ کام کے چکر میں آکر یہ اپنا پورا وجود ہمارے حوالے کر دے گی بھائیوں نے بڑی مشکل سے بیویوں سے چھپ چھپ کر مدد کرنی چاہی تو وہ بھی نہ کر سکے بیویاں چلا اٹھیں ابھی اپنے خرچے پورے نہیں ہوتے آپ اپنی بہن پر لٹا دیتے ہیں اس سے کہیں کوئی کام کرے نوکری کرے بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ اپنا بوجھ خود اٹھائے اور وہ اپنا بوجھ اٹھاتی تو کیسے..؟

گھر سے صبح نکلتے ہی ساتھ والے گھر کے شبیر صاحب بغیر بنیان کے باہر نکلے کھڑے ہوتے اور انکی ہوس بھری نظریں اسکا احاطہ کئے ہوئے ایسے جمی رہتی جیسے کہ صدیوں سے ان کے وجود کو بس ایک ہی پیاس رہی ہو عورت کی پیاس اور کوئی کام ہی نہ تھا انکے پاس آتے جاتے اپنے جسم کی نمائش اسطرح کرتے جیسے عورتیں خاص کر بیوہ عورت انکے بالوں بھرے جسم پر فریفتہ ہو کر انکے وجود کی پیاس بجھا دے گی اسے دنیا کے ہر مرد سے نفرت ہو چکی تھی جہاں دیکھو مرد بس ایک ہی کام میں لگے نظر آتے ہر مرد یہی چاہتا کسی طرح یہ عورت بھی ہمارے اوپر فدا ہو کر ہماری پیاس بجھا دے اور جو عورتیں اس مرض میں مبتلا ہو جاتیں انکو برا بھلا کہنے والے بھی یہی مرد ہوتے یعنی وہ خود تو دودھ کے دھلے ہوئے بن جاتے اور عورت بدکردار بھوکی ننگی کہلاتی ان شریف مردوں کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں تھا

اجی وہ تو خود مجھے ادائیں دکھاتی تھی مجھ پر فریفتہ ہو گئی تھی خود بدکردار تھی تبھی تو ہم نے منہ لگایا اچھی ہوتی تو کبھی ہم ایسی حرکت نہ کرتے

اور جو منہ نہ لگائے اسے یہ کہہ کر بدنام کیا جاتا پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے اپنے آپ کو کہیں کی حور پری لگی ہے جو مجھ جیسے مرد کو ٹھکرا رہی ہے ارے ایک بار میرے پاس آجائے پھر بتاونگا میں اسے ساری اکڑ نکال دونگا

جب تک بدر زندہ تھے اسے ان باتوں کا ہوش تک نہیں تھا یہی پڑوس کے شبیر صاحب بھابھی بھابھی کر کر اسے سلام کیا کرتے تھے
اور بھابھی شبیر بھائی کہاں ہیں آجکل نظر نہیں آرہے بھابھی یقین کریں میں دل. و جان سے انہیں اپنا بھائی مانتا ہوں آپ میری بہن جیسی ہو ہمیشہ دعا کرتا ہوں اللہ دونوں کی جوڑی سلامت رکھیں بدر بھائی نے بڑا ہمارا ساتھ دیا ہے ہم کتنی مشکل میں تھے جب چھوٹے کی طبیعت خراب ہوئی بدر بھائی جسطرح رات کے وقت ہمارے ساتھ ہسپتال لے کر گئے بروقت اسکی جان بچ گئی ورنہ تو کیا ہوجاتا

اور آج یہی شبیر بدر کے جاتے ہی بہن کا رشتہ بھول گیا تھا واقعی سگی بہن سگی ہی ہوتی ہے چاہے دنیا جتنا بہن یا بھائی کہہ لے لیکن کس کے دل میں کیا ہے یہ تو بُرا وقت ہی بتاتا ہے

انہیں سوچوں میں گم ہو کر وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی اسے پتہ تھا دوسرے دن پھر اسے دھکے کھانے کے لیے اٹھنا ہے کل پھر بھائی نے ایک جگہ نوکری کی بات کی ہوئی ہے اگر وہ لگ گئی تو بھائی کو پیسے دینے سے جان چھوٹ جائے گی بلاوجہ اسکا خرچہ بڑھ گیا ہے

یہی ہوتا ہے اس معاشرے میں عورت کو اسی لیے کہتے ہیں مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ کسی کی محتاج نہ ہو جو عورتیں بیچاری ان پڑھ ہوتی ہیں وہ اپنی اس کمزوری کے باعث دنیا کے آگے تماشا بن جاتی ہیں پھر دنیا والے ان کی جھولی میں بے تحاشہ طعنے دے کر چند روپے پھینک کر جنت کے حقدار بن جاتے ہیں…

شادی کون کرے گا ان سے یہاں مہنگائی کے دور میں ایک بیوی نہیں سنبھلتی بیوہ اور اسکے بچوں کی زمہ داری کون لے گا ایسی عورتیں شوہر کے نام پر ساری زندگی اسی طرح بچوں کے بڑے ہونے کے انتظار میں گزار دیتی ہیں

انکے جذبات بار بار مجروح ہوتے ہیں کوئی سمجھ نہیں پاتا وہ بیان نہیں کر پاتیں جب کہ آنحضرت ﷺ کے دور میں کوئی عورت بیوہ ہو جاتی یا طلاق ہو جاتی تو وہ فوراً شادی کا حکم دیتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اجمعین میں سے کوئی شادی کر لیتا
آج ہم نام حضورﷺ کا لیتے ہیں مگر کام کسی نے نہیں اپنا رکھے دنیا بھری پڑی ہے ایسی مثالوں سے
یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف بیوہ سے شادی کرنا نہیں ہے بلکہ بیواؤں کا خیال کرنا مقصد ہے

ہمارے ماموں بڑے دنیا دار انسان تھے امریکہ میں زندگی گزار دی وہاں جب بیمار ہوئے ڈاکٹرز نے جواب دے دیا کہا اپنے ملک واپس چلے جائیں جتنا وقت رہ گیا بیوی بچوں کہ ساتھ گزاریں ڈاکٹرزنے 90 دن کا وقت دیا عجیب اللہ کی شان 90 دن جس دن پورے ہوئے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی کلمہ پڑھا اور سب سے خدا حافظ کہہ کر گر گئے اتنا مبارک مہینہ مبارک دن پھر کلمہ کی توفیق اللہ اکبر کیا شان سے اللہ نے اپنے پاس بلوایا بعد میں کئی بیوہ عورتوں کے فون آئے تو پتہ لگا چپ چاپ ان کے گھروں کے راشن باندھ رکھے تھے کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ تھی اور جہاں کسی نے بتایا فوراً مدد کر دیتے

کچھ پتہ نہیں کونسی نیکی ہمیں جنت کا حقدار بنا دے یا کونسی نیکی اللہ کو اتنی پسند آجائے کہ موت بھی ہم پر آسان ہو جائے اسی لیے کہتے ہیں کسی نیکی کو کبھی چھوٹا نہ جانیں اور نیکیاں ایسے کی جائیں کہ صرف اللہ اور آپ کے درمیان رہیں وہ نیکی سب نیکیوں سے معتبر ہوگی… اللہ ہمیں ہمیشہ اچھی توفیق عطا فرمائیں.. آمین ثم آمین..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں