کراچی سے درجنوں نوجوان لبریشن فرنٹ میں شامل ہوگئے 78

کراچی سے درجنوں نوجوان لبریشن فرنٹ میں شامل ہوگئے

کراچی (چنارنیوز)کراچی شہیدائے کشمیر کانفرنس درجنوں نوجوان جموں کشمیر لبریشن فرنٹ و اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ میں شامل۔
شہدا ہمارے رہبر ہیں انہوں نے آزادی کی راہ کو متعین کیاہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سندھ ڈویژن
چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یٰسین ملک کی گرفتاری اور فرنٹ پر پابندی کی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔


جموں کشمیر لبریشن فرنٹ و اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ سندھ (ڈویژن) کے زیر اہتمام اولین کمانڈر انچیف اشفاق مجید وانی شہید، ایڈوکیٹ جلیل اندرابی شہید، شبیر صدیقی شہید، بشارت رضا شہید،شہید حکمت ڈاکٹر عبدالاحد گرو شہید، شہید امن نعیم بٹ شہید اور شہدائے حضرت بل کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں درجنوں ساتھیوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ و اسٹوڈنتس لبریشن فرنٹ میں شامل ہونے کا اعلان کیااور اس بات کا عہد کیا کہ ہم آخری سانس تک ریاست جموں کشمیر کی آزادی و خود مُختاری کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مقررین نے زبردست الفاظ میں شہیدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور تجدید عہد کیا کہ ہم ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی ، آزادی اور مکمل خود مُختاری تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کشمیری قوم کے ان سپوتوں نے ریاست کی وحدت کی بحالی، آزادی اور خود مُختاری کے لئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ یہ شہدا تحریک کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہماری جدوجہد کے رہبر ہیں۔

مقررین نے ہندوستان کی طرف سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی اور قائد انقلاب چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یٰسین ملک کی کالے قوانین کے تھت گرفتاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم اس پابندی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ مودی الیکشن جیتنے کے لئے یہ ڈرامہ بازی کر رہا ہے۔ ایک پرامن جدوجہد کی حامل جماعتوں پر پابندی لگا کر مودی اس خطے پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یٰسین ملک کو فی الفور رہا کیا جائے اور اُن کو بیرون مُلک علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔ اگر یٰسین ملک کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار ہندوستان ہو گا اُسے اس کی بڑی قیمت چُکانا پڑے گی۔ آخر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ و اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ میں شامل ہونے والے ساتھیوں

سے رکنیت کا حلف لیا گیا اور ان کو ابھی صفوں میں شامل ہونے پر مُبارک باد پیش کی گئی۔
تقریب سے سردار جاوید حنیف ، خوجہ محمد عبداللہ، وحید حیات، راشد عظیم ، سردار عزیز ایڈوکیٹ ، سردار زرین ایڈوکیٹ، عامر عارف ایڈوکیٹ ، وقاص کاشر ، ہمایوں مظفر ، حماد احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔ ۔ انہوں نے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بابا جان اور حسنین رمل کے ساتھ انتظامیہ کے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنے حقو ق کی بات کرنے والوں کو پابند سلاسل رکھنا انسانی حقوق کی پامالی ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈے اب عوام کو اپنے حقوق کی بات کرنے سے روک نہیں سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں