راولاکوٹ ستر سالہ بڑھیا پر تشدد ،پولیس نے ملزمان کے بجائے بیٹےپرمقدمہ کردیا 103

راولاکوٹ ستر سالہ بڑھیا پر تشدد ،پولیس نے ملزمان کے بجائے بیٹےپرمقدمہ کردیا

راولاکوٹ۔۔۔۔محمد خورشید بیگ۔۔

تھوراڑ نڑ کے غریب خاندان پر بااثر افراد کا تشدد،
تھوراڑ کے نواحی گاؤں نڑ کی رہائشی ستر سالہ بیوہ بڑھیا کو اس کے جوان بچوں کے سامنے باثر افراد نے اراضی کے تنازعہ پر تشدد کا نشانہ بنایا ڈالا۔پولیس نے ملزمان کی بجائے تشدد کا نشانہ بننے والی بیوہ کے بیٹے ذولفقار احمد کے خلاف مقدمہ درج کر دیااور استغاثہ میں اس بیٹے کو بھی شامل کر دیا جو وقوعہ کے روز کراچی تھا ۔بعد میں اسے بازو میں گولی مار دی جو اسلام آباد کمپلیکس میں زیر علاج ہے

مرزا نور نامی اس بوڑھی خاتون نے ’’میڈیا‘‘ کے دفتر میں اپنے بیٹے سمیت آ کر اپنی داستان یوں سنائی کہ رواں ماہ سولہ مارچ کو وحید احمد ،مجیب الرحمان اور گوہر رحمان نے متنازعہ اراضی جس کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور حکم امتناعی بھی جاری ہو چکا ہے مداخلت شروع کی ،منع کرنے پر مجھے اور میرے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ تھوراڑپولیس کو درخواست دی تو الٹا میرے بیٹے کو تھانے میں بند کر دیا۔ضمانت پر رہا ہوا تو اگلے روز میرے دوسرے بیٹے وقار جو کراچی تھا اور میرے تشدد کا سن کا اٹھارہ مارچ کو پہنچا تھا اسے بازو میں گولی مار دی جو اب ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس نے وقار کو بھی سولہ تاریخ کے واقع میں ملوث قرار دے دیا ۔بوڑھی اماں کے بقول تھوراڑ میں ملزمان کے رشتے دار محمد مشتاق اور اور ان کے بیٹے ملزمان کی پشت پنائی کر رہے ہیں ۔پولیس پیسے لینے کے بغیر کارروائی نہیں کرتی اور ملزمان سر عام یہ کہتے پھرتے ہیں کہ دس قتل بھی کر لیں انہیں کو ئی پوچھنے والا نہیں۔تشدد کا نشانہ بننے والے خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو بھی درخواست دی ہے ان کی واضع ہدایت کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی

مقدمہ منتقل کرنے کی درخواست دی لیکن اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔متاثرہ فریقین نے وزیر اعظم آزاد کشمیر،چیف سیکرٹری،آئی جی پولیس سے داد رسی کا مطالبہ کیا ہے اور اپنا مقدمہ تھوراڑ سے سی آئی اے راولاکوٹ منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں