6 فروری تاریخی دن '' یوم ختم نبوت '' 118

6 فروری تاریخی دن ” یوم ختم نبوت ”

(تحریر : محمد مقصود کشمیری )
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس کے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا ، اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضور اللہ کے آخری نبی ہیں اور تا قیامت آپ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی معنی میں نبوت کا دعوی کرے تو وہ اور اس کے پیرو کار دائرہ اسلام سے خارج ہیں یہ ایسا واضح عقیدہ ہے جس پر صحابہ کرام سے لیکر آج تک پوری امت مسلمہ متفق ہے اور کسی بھی جگہ کوئی اختلاف نہیں لیکن قادیانی اس عقیدے کے منکر ہیں اور وہ حضور علیہ السلام کی ذات اقدس کے بعد ایک نئے شخص مرزا غلام قادیانی کو اپنا نبی اور پیشوا مانتے ہیں اور مسلمانوں کا روپ دھار کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ، جس کی وجہ سے پوری امت مسلمہ نے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج غیر مسلم اقلیت قرار دیا جب کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی اور قانونی طور پر بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے ،



آزاد کشمیرکی قانون سازاسمبلی نے اگرچہ 1973 میں میجر (ر) محمد ایوب مرحوم کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کے زریعے قادیانیوں کی غیرمسلم حیثیت کا تعین کردیاتھا،مگر بعض خفیہ عناصر اورقادیانی نواز مفاداتی ہتھکنڈوں کی بدولت اسمبلی کی یہ قرار داد ختم نبوت آزادکشمیرکے آئین کا حصہ نہ بن سکی ،گزشستہ 45 سال سے اس قرار داد کو اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس اہم معاملے کی جانب آزادکشمیر کی کسی مذہبی و سیاسی جماعت نے توجہ دی ،قادیانی اِس دستوری سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد کشمیر میں اسلامی شعائرکے استعمال اوراپنی اِرتدادی سرگرمیوں میں آزادی سے مصروف رہتے ہوئے قادیانیوں نے آزادکشمیر کو بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا اور صرف ایک ضلع کوٹلی جسے قادیانی ربوہ ثانیہ کا نام دیتے تھے ، وہاں ڈیڑھ درجن کے قریب ارتدادی مراکز قائم کر کے مسلمانوں کو گمراہ اور مرتد بنا رہے تھے ، پاکستان میں ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کی آزادکشمیر میں عدم دلچسپی کے باعث کشمیر سے تعلق رکھنے والے مقامی علمائے کرام نے 2003 ء سے تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے پلیٹ فارم سے بیس کیمپ کے اندر قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے قادیانیوں کی کفریہ سرگرمیوں کی روک تھام کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ،(ان شاء اللہ ) اس سارے عمل کے پیچھے ایک طویل داستان اور ایک ایسی ریاستی جماعت کی محنت اور کردار شامل ہے جسے تاریخ میں تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے نام سے لکھا جائے گا ،



بدقسمتی سے کچھ لوگ کریڈٹ کے چکر میں تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آزادکشمیر اسمبلی نے راتوں رات ان کے معاہدات کو سمجھ کر اس پر من و عن عمل کر لیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خود ایسے احباب کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ آزاد کشمیر کے آئین میں سُقم کیا تھا ؟
تحریک تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کی جانب سے  آزاد کشمیر بھر میں مختلف اجتماعات میں آئین کے اس سقم کو اجاگر کرتے ہوئے عوامی بیداری مہم شروع کی اور ساتھ ہی مظفرآباد ہائیکورٹ میں ایک رٹ عبدالوحید قاسمی بنام آزاد حکومت بھی درج ہوئی ہے جو ابھی تک زیر سماعت ہے ، گزشستہ سال 6 فروری 2018 کو 3 بجکر 52 منٹ پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی ذاتی دلچسپی اور کوشش سے قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں ایک بل متفقہ طور پر اراکین کی جانب سے منظور کیا گیا تھا ، جسے ختم نبوت بل کہا جاتا ہے ، جس کے بعد آزادکشمیر میں منکرین ختم نبوت قادیانیوں ( احمدی ، لاہوری) کے تمام گروپوں کو قانونی و آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، قانون سازی کے لیے متفقہ طور پر پاس ہونے والی بارہویں ترمیم سے آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرد ی گئی جسے آئینی حیثیت بھی حاصل ہوگئی ، اسمبلی اراکین کی جانب سے اس بل کی منظوری کے بعد 6 فروری کا دن آزادکشمیر کی تاریخ میں پوری امت مسلمہ کے لیے ایک اعزاز اور یاد گار کے طور پر محفوظ ہو گیااور 45 سال بعد آزادکشمیر کی اسمبلی نے قرارداد ختم نبوت کو بل کی صورت میں پاس کر کے آئین میں شامل کیا ،



بارہویں ترمیم کے زریعے آئین میں ترمیم کے بعد ایک سال گزرنے کے باوجود اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ،محکمہ تعلیم،محکمہ قانون اور الیکشن کمیشن وغیرہ اس حوالہ سے اس وقت تک کوئی اگلا کام نہیں کر سکتے جب تک کہ اسمبلی آئینی ترامیم مکمل کرنے کے بعد قانون سازی نہیں کر لیتی،جہاں تک صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کے حلف نامہ میں آئینی ترمیم کا تعلق ہے تو یہ ترمیم حکومتِ پاکستان کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتی جب کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی علیحدہ علیحدہ ووٹر شماری کے لیئے دفعہ 22 اور دفعہ 3 ڈی میں آئینی ترامیم حکومتِ پاکستان سے کسی منظوری کے بغیر بھی آزاد کشمیر اسمبلی خود کر سکتی ہے. یہی وہ آئینی ترمیم ہے جس کے ہو جانے کے بعد عام مسلمانوں کے لیئے ختمِ نبوت کے حلف نامہ کی قانون سازی کی جاسکتی ہے. واضح رہے کہ جب تک نچلی سطح پر پاکستان کی طرح ختمِ نبوت کا حلف نامہ نافذ نہیں ہوجاتا آزاد کشمیر میں مرزائیوں اور مسلمانوں کی علیحدہ علیحدہ شناخت ممکن نہیں ہو سکتی، کیونکہ مرزائی بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں , نماز بھی اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح مسلمان پڑھتے ہیں غرض یہ کہ اگر کوئی مرزائی خود کو مرزائی نہ کہے تو بظاہر اور ایسی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اسے غیر مسلم کہا جائے. ہاں جب کوئی مرزائی یہ ظاہر کردے کہ وہ مرزا قادیانی کا پیروکار ہے تو ایسی صورت میں آزاد کشمیر کا آئین اسے غیر مسلم کہتا ہے.ختمِ نبوت کے حلف نامے کا قانون ایک ایسی مشین ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں اور مرزائیوں کو علیحدہ علیحدہ کیا جاسکتا ہے،۔



اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آزادکشمیر کی اسمبلی نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ بھی لائق تحسین ہے ، یہ مرحلہ بھی کچھ آسان نہیں تھا ، میجر (ر) محمد ایوب خان کی قرار داد ختم نبوت کو سابقہ حکومتوں نے ردی کی ٹوکڑی کی نظر کر دیا تھا، یقینی طور پر یہ ایک تاریخی جدو جہد تھی جسے اللہ پاک نے کامیابی سے ہمکنار فرمایا اور موجودہ حکومت کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میجر (ر) محمد ایوب مرحوم کی 29 اپریل 1973 کوپیش کردہ قرارداد ختم نبوت پر ان کی والدہ محترمہ اور چچا لطیف خان کے بھی دستخط شامل ہیں ، جس میں میجر (ر) محمد ایوب خان نے چار مطالبات درج کیے تھے جن کی تفصیل آگے لکھی گئی ہے ،
پاکستان میں 1953 اور پھر 1973 میں منکرین ختم نبوت اور فتنہ مرزائیت کے خلاف بھرپور تحریکیں چل رہی تھیں ہزاروں جانثاران آقا علیہ السلام کی عزت و حرمت اور ختم نبوت کی حفاظت کے لیے جان نچھاور کر چکے تھے اور ہزاروں شہداء کی قربانیوں کے باوجود اس کے نتائج سامنے نہیں آرہے تھے ، ان حالات میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے ممبر اسمبلی میجر(ر) محمد ایوب خان مرحوم نے 22مارچ 1973 کو آزاد جموں و کشمیراسمبلی میں ایک قرار داد جمع کرائی تھی,.
١۔مرزائیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
ب۔آزاد کشمیر میں مقیم مرزائیوں کورجسٹرڈ کیا جائے اور اقلیت کی بنیاد پر ہرسطح پر نمائندگی دی جائے۔
ج۔ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے تک ریاست میں مرزائیوں کا داخلہ بند کیاجائے۔
د۔آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 28اپریل 1973ء کو قرارداد پر بحث ہوئی ۔ ممبران کی اکثریت نے اس پر اتفاق رائے دیا، اسمبلی ممبران نے پیش کردہ قرار داد سے مندرجہ ذیل شقیں پاس کیں :
ا۔ مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔
ب۔ آزاد کشمیر میں مقیم مرزائیوں کو رجسٹرڈ کیا جائے ۔
ج۔ آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔
انتہائی مخدوش حالات میں میجر (ر) محمد ایوب کی جانب سے اس قرارداد کا پیش کیا جانا یقینا بڑا کارنامہ تھا، جس کے بعد پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی اس مسئلے کو اسمبلی کے فورم پر لے جانے کی تیاری کی ،آزادکشمیراسمبلی کی قرارداد کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی سے 7 ستمبر 1974 ء کو طویل بحث کے بعد متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد قانون سازی کر کے قادیانیوں کے لیے حدود و قیود کا تعین کیا گیا ،پاکستان میں عقید ہ ختم نبوت کو تحفظ دیتے ہوئے صدراوروزیراعظم کے حلف ناموں اورشناختی کارڈ کے فارموں میں ختم نبوت پر حلف کا کالم شامل کیا گیا، مگراِس کے باوجودقادیانی اِسلامی شعائر کا بے دھڑک استعمال کرتے رہے،یہاں تک کہ 26اپریل 1984کو صدرمحمد ضیا الحق نے امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری کرکے قادیانیوں کی طرف سے اِسلامی شناخت کے استعمال کا راستہ روک دیا،



گزشتہ سال دوسری مرتبہ ممبر اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے جو قرار داد پیش کی تھی اس کی عبارت میں بھی بڑی تفصیل کے ساتھ ایوان کو قادیانیت سے متعلق قانون سازی کے لیے متوجہ کیا گیا تھا تاہم ایسا نہیں ہو سکا ، پیر علی رضا کی جانب سے قرارداد میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر سیکشن 3 عبوری آئین ایکٹ 1974 آزاد جموں وکشمیر کی رو سے یقینااسلامی ریاست ہے، لہذا قرآن و سنت کی روشنی میں قوانین وضح کرنے کی بھی پابند ہے اور سیکشن 2 سب سیکشن (3) جو کہ بذریعہ ترمیم تحت تیسری ترمیمی ایکٹ 1976 میں شامل ہوئی ، میں صاف طور پر درج ہے کہ اگر کوئی بھی شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا ہو اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد نبی ہونے کا دعویدار ہو، یا دینی اصلاح کار ظاہر کرے اور دینِ اسلام میں کسی بھی قسم کی ترمیم و تبدیلی کا کردار ادا کرے یا اس کا کسی بھی طور اظہار ہی کرے یا ایسے کسی بھی فرقہ کا پیروکار ہو، ایکٹ کے تناظر میں کسی بھی طور مسلمان نہ گردانہ جائے گا، جیساکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک نے اپنی 140 مسلم تنظیم ہا کے ذریعے 6 تا 10 اپریل 1974 مکہ معظمہ میں ہونے والی میٹنگ میں طے کیا تھا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان جس سے خطہ آزاد جموں وکشمیر ملحق ہے، میں مرزایت کی حد ہردو بنیادی صورتیں بصورت قادیانیت اور لاہوری گروپ سے متعلقہ واضح قانون بذریعہ نیشنل اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن محررہ 07 ستمبر 1974 میں کر دیا تھا اور اس بنیاد پر آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 260 کی ذیلی شق 3 کی ذیلی شقوں (a) اور (b) شامل کی گئی ہیں، اور اس حوالہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کئی قوانین مرتب و رائج بھی ہوئے اور اسی تناظر میں ترامیم بھی کی گئیں، جنہیں من و عن خطہ آزاد جموں وکشمیر میں بھی تعزیراتِ پاکستان اور ضابطہ فوجداری خطہ آزاد جموں وکشمیر میں ترامیم کی حد تک تو شامل اور رائج کیا گیا ہے لیکن اس کے اطلاق کے حوالہ سے مثر کردار ادا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، جس کی روشنی میں اِس معزز ایوان کو بھی انتہائی مناسب اقدامات کرنے ہونگے۔



الف) یہ معزز ایوان مرزائیوں (قادیانیوں اور لاہوری گروپ یا کوئی بھی دیگر مذہب وغیرہ) جو رسول اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ختم نبوت کے حوالہ سے یقین نہیں رکھتا / رکھنے کو قطعی غیر مسلم قرار تو عبوری آئین تحت ایکٹ 1974 میں دیا جا چکا ہے، لیکن ایسے مسلمان جو ایسے کسی بھی فرقہ کے پیروکار بنے، کو مرتد بھی قراردیا جانا احسن اقدام ہوگا اور اس حوالہ سے وہ جس تعزیری کارروائی کے متقاضی ہوں، بھی تحتِ ضابطہ و قانون ان کے خلاف مثر کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔
ب: یہ کہ خطہ آزاد جموں وکشمیر میں مقیم اور شہریت کے حامل مرزائیوں (قادیانیوں اور لاہوری گروپ) کے پیروکاروں کو بطور غیر مسلم رجسٹرڈ بھی کیا جائے اور باقاعدہ بمطابق بھی نیشنل رجسٹریشن ایکٹ 1973 بعداز جدید ترامیم ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے اور ان کے شناختی کارڈ میں ان کے غیر مسلم ہونے کے بارہ میں باقاعدہ اندراج بھی کیا جائے، تاکہ شناخت ہو پائیں اور کسی بھی قسم کی غلط بیانی پر مبنی انفارمیشن دینے پر اِسی کے تحت ایسے فرد یا افراد کے خلاف ضابطہ فوجداری کی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے، یعنی غیر مسلم ہوتے ہوئے خود کو مسلم ظاہر کرنے اور درج کرنے پر تعزیری کارروائی تحت ضابطہ عمل میں لائی جائے۔
ج) یہ ایوان ریاست میں مرزایت کی غیر اسلامی سرگرمیاں جو عقیدہ ختم نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف ہوں، پر مکمل ممانت عائد کی جائے، انہیں ان کی عبادت گاہ کو مسجد کہنے، تحریر کرنے اور آذان دینے سے بھی باز وممنوع کر دیا جائے اور مرزایت / قادیانیت کے مبلغین پر کڑی نگاہ رکھے جانے کے بارہ میں انتظامیہ کو پابند کیا جائے اور جہاں ضروری ہو تحت ضابطہ اِن کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے، جس کے لئے متعلقہ تھانوں کو پابند کیا جانا ہوگا اور ہر تھانہ کو اِن کی نقل و حمل اور تبلیغ کے معاملہ پر کڑی نگاہ رکھنے کے بارہ میں واضح احکامات جاری کئے جانے ہونگے۔ تاکہ یہ درپردہ مسلمانوں کو دھوکے اور لالچ وغیرہ سے ورغلانے میں کامیاب نہ ہوپائیں۔ لہذا The Anti-Islamic Activities of Qadiani Group, Lahore Group and Ahmadis (Prohibition and Punishment) Ordinance, 1984 کو اس کی تمام تر تاوقت ترامیم اِس کی اصل رو کے ساتھ خطہ آزاد جموں وکشمیر میں مکمل نافذ و رائج کئے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں اِس ضمن میں مزید بھی جو قوانین پابندی عائد کرتے ہوں، کا اطلاق از خود عمل میں لائے جانے کے بارہ میں مستقل ہدایات کا جاری کیا جانا بھی لازمی قرار دیا جائے۔ البتہ اِن کے حق میں کوئی بھی رعایت از خود رائج نہ ہوگی جب تک کہ آزاد جموں وکشمیر اسمبلی اسے بذریعہ منظوری تحت ضابطہ Endorse نہ کرے۔
آزادکشمیر اسمبلی میں گزشتہ 6 فروری کو پاس ہونے والا ختم نبوت بل میجر (ر) محمد ایوب کی پیش کردہ قرار داد کی صرف ایک جزء الف پاس ہوئی حکومت کی جانب سے اس قرار پر من و عن عمل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک آئینی و قانونی سقم باقی ہیں اسی وجہ سے آزاد کشمیر میں قادیانی شعائر اسلام کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اعلانیہ مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف ہیں صرف ضلع کوٹلی میں قادیانیوں کے 18 ارتدادی مراکز جن کی شکل و صورت مساجد کی طرح ہے وہاں پر کفریہ سرگرمیوں سے مسلمانوں کے ایمان کو لوٹا جارہا ہے ، سرحدی علاقوں میں شعائر اسلام کی کھلم کھلا توہین کی جا رہی ہے ، تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر گزشتہ 15سالوں سے اپنی کانفرنسوں میں حکومت وقت سے درج ذیل مطالبات کیے جاتے رہے ،
٭29 اپریل کی قرار داد کے مطابق ختم نبوت پر قانون سازی کی جائے ،
٭ 1984 ء میں پاس ہونے والے ا متنازع قادیانیت آرڈیننس کو قانون کا حصہ بنا کر قادیانیوں کو اس کا پابند بنایاجائے۔
٭ قادیانیوں کے ارتدادی مراکز جن کی شکل و صورت مساجد کی طرح ہے انہیں تبدیل کیا جائے اور قادیانیوں کے اخبار روزنامہ الفضل MTA ٹی وی چینل و دیگر لٹریچر پر آزاد کشمیر میں پابندی لگائی جائے۔
٭ قادیانی اور مسلمان کے نکاح کو قانوناً جرم قرار دیا جائے جہاں جہاں ایسے نکاح موجود ہیں انہیں سرکاری طورپر منسوخ کیا جائے۔
٭ آزاد کشمیر میں مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے اور 6 فروری کو سرکاری طورپریوم ختم نبوت منایا جائے اور اسی دن عام تعطیل کا اعلان بھی کیا جائے۔
٭ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں کے تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت ۖ کی اہمیت پر کتاب شامل کی جائے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی قرار داد ختم نبوت کو بھی شائع کیا جائے اور آئین میں پائے جانے والے ُسقم کو دور کر کے آزادکشمیر کے آئین میں ختم نبوت اور قادیانیت کے حوالے سے اسی طرح الفاظ شامل کیے جائیں جس طرح پاکستان کے آئین میں وضاحت ہے ،
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ بحیثیت مسلمان ہر شخص پر لازم ہے ہماری کسی بھی قادیانی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں لیکن حضور کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدو جہد جاری رکھیں گے کسی بھی شخص کو ناموس رسالت پر زبان درازی کی اجازت نہیں دے سکتے، ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان جنہیں یہ عظیم اعزاز نصیب ہوا ہے وہ ختم نبوت بل سے متعلق دیگر قانونی و آئینی معاملات کو بھی مکمل کریں تاکہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں قادیانیوں کی کفریہ سرگرمیوں کی روک تھام ہو سکے ،تحریک تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر حکومت آزادکشمیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہر سال اس دن کی اہمیت کو اجا گر کرنے کے لیے ریاست بھر میں یوم ختم نبوت کے عنوان سے اجتماعات منعقد کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں