126

لیاقت علی خان سے سمیع الحق تک

لیاقت علی خان سے سمیع الحق تک، قتل ہونے والے سیاستدانوں کی طویل فہرست

لاہور (صابر شاہ)پاکستان کی سیاسی تاریخ افراتفری سے عبارت رہی ہے، 1951ء میں لیاقت علی خان سے لے کر مولانا سمیع الحق تک قتل ہونے والے سیاستدانوں کی ایک طویل فہرست ہے ،مولانا سمیع الحق کو گزشتہ شام راولپنڈی میں انکے گھر میں قاتلانہ حملہ کرکے شہید کر دیا گیا۔اس فہرست کا پہلا قتل 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ہوا جب پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا۔

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد دوسرا ہائی پروفائل قتل مغربی پاکستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب (خان عبدلجبارخان ) کا تھا جنہیں جی او آر لاہور میں ان کے بیٹے سعد اللہ خان کے گھر میں عطاء محمد نامی میانوالی کے ایک کلرک نے 9مئی 1958ء کو قتل کردیا جہاں وہ ایک سیاسی میٹنگ پر جانے کے لیے کرنل سید عابد حسین (سیدہ عابدہ حسین کے والد )کا انتظار کر رہے تھے۔ ڈاکٹر خان صاحب باچاخان کے بھائی اور ولی خاں کے چچا تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک بانی اورخیبر پختونخوا کے سابق گورنر حیات محمد خان شیر پائو کو 1975ء میں ایک بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔ 1981ء میں چودھری ظہور الٰہی کو لاہور میں قتل کردیا گیا۔ ستمبر 1982ء میں 37 سالہ صحافی اور سیاستدان ظہور الحسن بھوپالی کو 4 افراد نے ان کے دفتر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔خیبرپختونخوا کے سابق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اورسابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل فضل حق کو 3 اکتوبر 1991ء کو پشاور میں نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کو 1993ء میں قتل کر دیا گیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ستمبر 1996ء میں قتل کر دیا گیا۔ 1998ء میں سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کو قتل کر دیا گیا۔ سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ صدیق خان کانجو کو جولائی 2001ء میں قتل کر دیا گیا۔ 6 اکتوبر 2003ء کو مولانااعظم طارق کو نامعلوم افرادنے اسلام آباد میں قتل کر دیا۔ 20 فروری 2007ء کو وزیر سماجی بہبود پنجاب ظل ہما عثمان کو گوجرانوالہ میں قتل کر دیا گیا۔ قاتل محمد سرورسے متعلق رپورٹس آئیں کہ وہ ظل ہما کے سیاست کرنے اور اسلامی لباس نہ ہونے کی وجہ سے مشتعل تھا۔

27 جولائی 2007ء کو حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی کو کوئٹہ میں قتل کردیاگیا۔ 27دسمبر2007ء کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں فائرنگ اورخودکش حملہ کر کے شہید کر دیا گیا۔28دسمبر2007ء کو ق لیگ کے سابق وزیر اور والی سوات کے پوتے اسفند یار امیر زیب کو سوات میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ 25اگست2008ء کو اے این پی کے ایم پی اے وقار احمد کے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کو سوات میں رہائشگاہ پر راکٹ حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔26جنوری2009ء کو چیئرمین ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی حسین علی یوسفی کو کوئٹہ میں گولیاں مار دی گئیں۔ 11 فروری2009ء کو اے این پی کے ایک ایم پی اے کو پشاور میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا یہ ایک سال میں اے این پی کے رہنمائوں پر چھٹا حملہ تھا۔

25 اکتوبر کو بلوچستان کے وزیرتعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں ان کی رہائشگاہ کے باہر گولی مار دی گئی۔ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔ یکم دسمبر2009ء کو اے این پی کے ایک سیاستدان شمشیر علی خان کو سوات میں قتل کر دیا گیا۔3جنوری2010ء کو کے پی کے سابق وزیرتعلیم غنی الرحمٰن کو سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں قتل کردیا گیا۔20جنوری2010ء کوپشاورمیں ایک دھماکے کے دوران اے این پی رہنما اورنگزیب خان شدید زخمی ہو گئے۔جولائی2010ءمیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء حبیب جالب کو کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا۔ 24 جولائی 2010ء کو اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کے بیٹے میاں رشید کو پبی میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

یکم اگست2010ء کو ایم کیو ایم کے ایک ایم پی اے رضا حیدر کو ناظم آباد کراچی میں6افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔4جنوری2011ء کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے باڈی گارڈ نے قتل کر دیا۔ 2مارچ 2011ء کو اس وقت کے وزیراقلیتی امور شہباز بھٹی کو اسلام آباد میں گولیاں مارکر قتل کر دیا گیا۔دسمبر 2011 ء میں کے پی کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور پشاور میں ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔11اپریل 2013 ء کو متحدہ کے رہنما فخرالاسلام کو جنوبی سندھ میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔16اکتوبر 2013 کو خضدار میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے بیٹے اور بھائی سمیت 4افراد کو قتل کر دیا گیا۔16اکتوبر 2015 کو وزیرداخلہ پنجاب کرنل شجاع خانزادہ کو ان کی رہائشگاہ میں ایک میٹنگ کے دوران خودکش حملہ کرکے شہید کر دیا گیا۔

13جولائی 2018 کو مستونگ میں الیکشن مہم کے دوران نواب سراج رئیسانی کو خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا۔ حملے میں 131 افراد جاں بحق ہوئے۔ سراج رئیسانی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔جولائی 2016 کے دوران ہی عام انتخابات سے صرف 14دن قبل پشاور میں ایک جلسے پر خودکش حملے میں اے این پی رہنما ہارون بلور سمیت 13افراد جاںبحق اور 45 زخمی ہوگئے۔24جولائی 2018 کو سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما اکرام گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان میں انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش حملے کا نشانہ بن گئے جب حملہ آور نے ان کی گاڑی کے قریب خود کو اڑا لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں