157

اصحاب نبوی علیہ السلام کی وفائیں

الطاف جمیل شاہ ندوی

جب مکہ کی خشک پہاڑیوں اور بے آ ب وگیاہ وادیوں میں اسلام کی صدائے حق بلند ہوئی تو اس کی وسعت نے پورے جزیرے نما عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بچے، بوڑھے ،جوان، غلام، آزادمردوزن، سب اس کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے اس طرح دوڑکر اس کی آغوش میں پناہ لینے لگے کہ گویا بڑی بے تابی اور اضطراب سے اس کی آمد کے منتظر تھے۔قبول اسلام کے وقت ان پر جو کیفیات طاری ہوتی تھیں، ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ معصیت کی کثرت سے اکتا چکے ہیں، ارتکاب گناہ کی بے پناہیوں نے ان کو نڈھال کر ڈالا ہے اور ایک عرصہ دراز تک کفروشرک کی تاریکیوں میں غرق رہنے کے بعد نور و غیاکی تلاش میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے نظر و بصر اور قلب و ضمیر کی ظلمت دور ہو اور اس کی جگہ ان کے اندر روشنی کے چشمہ ہاے صانی ابلنے لگیں۔

یہ جذبہ بلا استثنا مردوں اور عورتوں سب میں پایا جاتا تھا۔جو لوگ اس جذبہ صادقہ اور عاطفہ سے محروم تھے اور جن کے دلوں پر ظلمت و تاریکی کی مہریں ثبت تھیں، ان کی تعداد روز بروز کم ہورہی تھی۔ان کے ناروا اور غیر پسندیدہ گفتار و کردار کا زور ٹوٹ چکا تھا۔لوگوں کے دلوں میں ان کا وقار ختم ہو چکا تھا۔ان کی عام حیثیت اور لوگوں میں شہرت و تعارف کی جو نوعیت تھی، وہ ظالم وستم رانوں سے زیادہ نہ تھی۔عوام ان کی ایذارسانیوں سے گلو خلاصی کے لیے بے تاب تھے۔ ان کی گرفت ظلم اگرچہ مضبو ط تھی،لوگوں کی گردنوں پر انہوں نے اپنی المناکیوں کےپنجے گاڑ دیئے تھے اور اسلام کی تبلیغ و ترویج اور نشرواشاعت کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ تھے، مگر لوگ اسلام کی طرف برابر دوڑے چلے آرہے تھے اور خاندانوں کے خاندان اس کے حلقے میں داخل ہو رہے تھے

اس ظلمت کے نرغے میں محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم پر ہونے والے تبصروں اعتراضات کے ساتھ ساتھ جو آلام و مصائب ٹوٹ پڑتے محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم کے جانثار خود پر سہہ لیتے خود کو ان مصائب و مشکلات کے سامنے لاکھڑا کرتے ایسی مثالیں ہزاروں ہیں کہ جانثاروں نے محبت و عقیدت کا وہ جذبہ دیکھا کر ادا کردیا کہ تاریخ عالم جس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں دکھا سکتی یہ عقیدت یہ محبت زبانی نہ تھی بلکہ اپنی جان بھی اس مقصد کے لیے نچھاور کرنے میں یہ حضرات آگے آگے رہتے تھے ان کے ہوتے ہوئے کیا مجال تھی کہ کوئی آنکھ اٹھا کر محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا

محبت نبوی علیہ السلام سے سرشار اصحاب نبوی علیہ السلام میں اول بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جنہیں کفار مکہ نے لہولہان کردیا پر فکر یار سے سرشار یہ عظیمت کی راہ کا راہی مغلوب نہ ہوسکا بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے مصائب و مشکلات کا دور انتہائی کٹھن اور صبر آزما سہہ لیا پر دامن نبوی علیہ السلام سے ہاتھ نہ کینچھا صبر و تحمل کا ایسا مظاہرہ کیا کہ رہتی دنیا تک کے لئے مثال بن گئے احد کے روز جب جنگ عروج پر ہے تمام لوگ ایسے اوقات میں اپنی جان کی فکر کرتے ہیں ہر کوئی اپنی جان کا دفاع کرنے میں مصروف رہتا ہے پر اس میدان کارزار میں بھی صحابہ کرام دفاع نبوی علیہ السلام کو اولین ترجیح دیتے ہیں اپنی کوئی فکر نہیں بس غم مصطفے میں ڈوبے یہ پروانے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے وارے جارہے ہیں یہ محبتوں کی رفعت و شان جس پر قربان ہونے کو دل چاہتا ہے

کیسے ہیں یہ عظیم کارواں کے مسافر جو فدا ہورہے ہیں اپنے رہنما پر ان کا کیا کہنا بس رضی اللہ عنہ
حضرت سیدنا عمارۃ بن زیاد بن سکن الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سکن بن رافع انصاری اشہلی یہ جنگ احد میں شہیدہوئے جنگ احد میں جب قوم کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگھیرلیاتوآپ نے فرمایاکہ کون ہے جواپنے کو میرے لئے فداکرے پس زیاد بن سکن اوربعض لوگ کہتےہیں کہ عمارہ بن زیادبن سکن پانچ انصاریوں میں سے کھڑے ہوگئے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ایک سے ایک لڑنے لگے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لڑرہے تھے سب سے آخر میں زیادیاعمارہ بن زیاد نے مقابلہ کیاحتی کہ زخمی ہوکرگرپڑے پھرمسلمانوں  کے ایک گروہ نے آکران کوکفاروں سے چھڑایا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو میرے پاس لاؤ لوگ ان کو آپ کے پاس لے گئے آپ نے اپنے قدم سے ان کے تکیہ لگادیاپس ان کی وفات ہوگئی اوران کا منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پرتھا ان کا کیا کہنا یہ اپنے قائد اعظم مرشد اعلی پر فدا ہوگئے یہ منظر کس قدر عظیم ہے کہ قدم مبارک پر سر رکھ کر نبوی علیہ السلام کے آنسوؤں کو بہتے ہوئے دیکھ کر یہ سنتے ہوئے کہ میں تو راضی ہوں ایسے حال میں فرشتہ آتے ہیں امام کائنات کے سامنے سے ان کی روح کو لے جاتے ہیں فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گئے کہ کس ادا سے یہ صاحب رب کو راضی کر کے چلے گئے جہاں سے
ایسے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرلیا گیا جسے اذیتیں دی گئی پر ان کے دل سے حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کم نہ کرسکے اس محبت و عقیدت سے سرشار کا کیا کہئے جسکے بارے تاریخ کہتی ہے کہ

خبیب بن عدی کے قتل میں مشرکین نے بڑا اہتمام کیا، حرم سے باہر تنعیم میں ایک درخت پر سولی کا پھندا لٹکایاگیا، آدمی جمع کیے گئے،مرد،عورت بوڑھے بچے،امیر غریب ،غرض ساری خلقت تماشائی تھی، جب لوگ عقبہ کے گھر سے ان کو لینے کے لیے آئے تو فرمایا ذرا ٹھہر جاؤ، دو رکعت نماز پڑھ لوں  زیادہ پڑھوں گا تو کہو گے کہ موت سے گھبرا کر بہانہ ڈھونڈھ رہا ہے،نماز سے فارغ ہوکر مقتل کی طرف روانہ ہوئے،راستہ میں یہ دعا زبان پر تھی۔
اللهم أحصهم عدداً وأقتلهم بدداً ولا تبق منهم أحداً
پھر یہ شعر پڑھتے ہوئے ایک بڑے درخت کے نیچے پہنچے۔
وذلك في ذات الإله وإن يشأ يبارك على أوصال شلو ممزع
یہ جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی محبت میں اگر وہ چاہے تو ان کٹے ٹکڑوں پر برکت نازل کرے گا
فلست أبالي حين أقتل مسلماً على أي جنب كان في الله مصرعي
اگرمسلمان رہ کر میں ماراجاؤں تو مجھے غم نہیں کہ کسی پہلو پر خدا کی راہ میں میں پچھاڑاجاتا ہوں۔
عقبہ بن حارث اورمبیرہ عبد ری نے گلے میں پھنداڈالا ،چند منٹ کے بعد سراقدس دار پر تھا۔

آنحضرتﷺ کو اس واقعہ کی خبر وحی کے ذریعہ سے ہوئی تو فرمایا اے خبیب! تجھ پر سلام اورعمروبن امیہ ضمری کو اس شہید وفا کی لاش کا پتہ لگانے کے لیے مکہ بھیجا عمرو رات کو سولی کے پاس ڈرتے ڈرتے گئے ،درخت پر چڑھ کر رسی کاٹی،جسدِ اطہر زمین پر گرا، چاہا کہ اتر کر اٹھالیں ،لیکن یہ جسم زمین کے قابل نہ تھا فرشتوں نے اٹھا کر اس مقام پر پہنچایا،جہاں شہیدان وفاراہ خدا کی روحیں رہتی ہیں! عمرو بن امیہ کو سخت حیرت ہوئی ،بولے کہ کیا انہیں زمین تو نہیں نگل گئی۔ قتل کرتے وقت مشرکین نے قبلہ رخ نہیں رکھا تھا، لیکن جو چہرہ قبلہ کی طرف پھر چکا تھا،وہ کسی دوسری طرف کیونکر پھر سکتا تھا، مشرکین نے بار بار پھیر نے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی خبیب نے جو دعا کی تھی،اس کا اثر ایک سال کے اندر ظاہر ہو گیا، جو لوگ ان کے قتل میں شریک تھے،نہایت بے کسی کی حالت میں مارے گئے

اب چلے اصحاب نبوی علیہ السلام میں سے صحابیات بھی کم نہیں جنگ احد سے قافلہ حق جو واپس آیا تو ایک بوڑھی اماں  سے کہا گیا اماں آپ کے شوہر آپ کے بیٹے بھائی شھید ہوگئے اماں غم نبی صلی اللہ علیہ وسلم دل میں لئے کہتی ہیں جب رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم سلامت ہیں تو میرا ہر غم و الم پھر ہلکا ہے ایسے ہی

حضرت سمیہؓ کی شہادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی
حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا خواتین اسلام میں پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کی پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا
جب پیغمبر اسلام نے اہل مکہ کو دعوت حق دی تو سمیہ بنت جناط نے اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں سمیت فوراً اسلام قبول کرلیا۔

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا قبول اسلام سے قبل ابوحذیفہ مخرومی کا انتقال ہوچکا تھا۔ جس وقت آپ نے اسلام قبول کیا وہ مسلمانوں کے لئے انتہائی صبر آزما امتحان کا دور تھا جو شخص بھی مسلمان ہوتا مشرکین مکہ کے ایسے ایسے مظالم کا نشانہ بنتا جس کے تصور سے ہی انسان کانپ اٹھے۔ اسلام دشمنی میں اصل مکہ کے تعلق اور رشتے کا بھی لحاظ نہ کرتے۔ حضرت سمیہؓ کااسلام قبول کرنا اہل مکہ کو بہت ہی ناگوار گزرا۔ کفار مکہ نے آپ کو اسلام چھوڑدینے کے لئے مجبور کیا۔ اس سلسلے میں لالچ بھی دیا اور ڈرایا دھمکا یا بھی، لیکن آپ کو حق کے راستے سے ہٹانے میں ناکام رہے۔

بنی مخزوم کے ظالم لوگ آپ کی ضعیف العمری کا بھی خیال نہ کرتے، ٹھوکروں، گھونسوں اور لکڑیوں سے اتنا مارتے کہ آپ تکلیف کی شدت سے بیہوش ہوجاتیں، جب ہوش آتا تو آپؓ سے اسلام چھوڑدینے کا کہاجاتا ۔ آپؓ جواب میں یہی کہتیں! ’’ نبی ﷺ پر ہماری ہزار جانیں قربان‘‘ آپ کے یہ الفاظ کفار مکہ کا غصہ اور بڑھا دیتے کفار مکہ آپؓ  کو لوہے کی زرہیں پہنا کر جلتی ہوئی ریت پر لٹاتے، پشت کو دھکتے ہوئے انگاروں سے جلاتے اور کبھی پانی میں غوطے دیتے، لیکن توحید ورسالت سے آپ کے عشق کا یہ عالم تھا کہ زبان سے کلمہ حق کے سوا کچھ نہیں کہتیں۔ راہ حق سے ذرہ برابر بھی ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔

ایک دن نبی اکرم ﷺ بنومخزوم کے محلے سے گزر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے دیکھا کفار مکہ نے حضرت سمیہؓ کو لوہے کی زرہ پہناکر دھوپ میں تپتی ریت پر لٹارکھا ہے اور پاس کھڑے ہوکر قہقہے لگارہے ہیں ، حضرت سمیہؓ ضعیف العمری کے باوجود تمام تکالیف برداشت کرتے ہوئے صبر وشکر کررہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی آنکھیں حضرت سمیہؓ کی بے بسی دیکھ کر آنسوؤں سے بھر گئیں۔ آپ نے حضرت سمیہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’صبر کرو، تمہارا ٹھکانہ جنت ہے‘‘۔
ایک دن حضرت سمیہؓ دن بھر کی سختیاں برداشت کرنے کے بعد گھر واپس پہنچیں تو ابوجہل نہایت غصے میں تھا۔ اس نے حضرت سمیہؓ سے اسلام چھوڑدینے کا مطالبہ پھر دہرایا ، حضرت سمیہؓ نے انکار کیا تو ابو جہل غصہ سے پاگل ہونے لگا۔ اس نے آپؓ کو سخت اذیتیں دیں، لیکن سمیہ نے یہی جواب دیا’’جان تو قربان کی جاسکتی ہے لیکن اسلام نہیں چھوڑا جاسکتا

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے ابوجہل کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا، لہذا اس نے حضرت سمیہؓ کو گالیاں دینی شروع کردیں اور آپؓ پر نیزہ تان کر ڈرایا کہ اگر آج تو نے اسلام نہ چھوڑا تو میں تجھے نیزہ مارکر قتل کردوں گا۔
حضرت سمیہؓ نے ابوجہل کی دھمکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ ابوجہل آگ بگولہ ہوکر حضرت سمیہؓ کو کلمہ پڑھنے سے روکنے لگا، لیکن حضرت سمیہؓ زور زور سے کلمہ پڑھتی رہیں۔ ابوجہل جب ہرکوشش میں ناکام ہوگیا اور اسے احساس ہوا کہ وہ حضرت سمیہؓ کو اسلام چھوڑنے پر مجبو رنہیں کرسکتا تو اس نے پوری طاقت سے حضرت سمیہؓ کو نیزہ مارا جو آپؓ کو ناف کے نیچے لگا۔ آپؓ خون میں لت پت ہوکر گرپڑیں اور تکلیف کی شدت سے تڑپنے لگیں۔ آخر اسی حالت میں شہادت کے عظیم مرتیے پر فائز ہوئیں۔

حضرت سمیہؓ کی شہادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی۔ یہ ایک جانباز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے اللہ کی زمین رنگین ہوئی۔ ابوجہل نے حضرت سمیہؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ کو بھی تیر مار کر شہید کردیا۔ آپؓ کے شوہر حضرت یاسرؓ عبسی بھی لرزہ خیز اذیتیں اور ظلم سہتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔
نبی کریم ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ ’’اے اللہ آل یاسر کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھ‘‘ حضرت سمیہؓ خواتین اسلام میں پہلی خاتون تھیں جنہوں اسلام کے خاطر نہایت ضعیف العمری میں کفار مکہ کے مظالم صبروشکر سے برداشت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کی پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت سمیہؓ کی شیادت تاریخ اسلام کی پہلی دردناک شہادت تھی

تاریخ اسلام ایسے پیارے بندوں اور جیالے حضرات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کفر و نفاق کی زندگی سے علیحدگئی کے بعد راہ وفا کی کانٹوں بھری منزل پر قدم رکھ کر کبھی زبان پر شکوہ کے الفاظ نہ آنے دئے بلکہ منزل پر رواں دواں رہنے کے دوران ہر مصیبت ہر آزمائش کو خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور اپنی ایمانی غیرت و حمیت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دیکھنے والوں کے دل بھی دھک گئے جب بھی کہیں سے نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی تو یاراں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جان کی بازی لگادی یہ اب کی ہڑبونگ نہیں تھی کہ صرف باتونی کچھوے دوڑائے جاتے وہاں تو میدان عمل میں جانا ہی نعمت ایمانی سمجھا جاتا تھا

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ ایک دن کے دولھے ہیں صبح اٹھ کر غسل خانہ میں نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی پکار سنتے ہیں دل گوارہ نہیں کرتا کہ میں فارغ ہوجاؤں گر خدانخواستہ اس وقت تک محبوب کو کوئی تکلیف پہنچی تو تڑپ کر دوڑ پڑتے ہیں آخر پر نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارکہ سے غسیل ملائکہ کا خطاب پاتے ہیں نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد فتنہ و فساد کا ڈر ہے ہر کوئی اداس غم سے چور ہے منافقین سے اندیشہ ہے کہ کوئی فتنہ نہ اٹھا دیں ہزاروں اندیشے ہیں ہر طرف حالات پر خلیفہ اول کی نظر ہے پر ختم نبوت پر حملہ آور مسلمہ کذاب کی سرکوبی اولین ترجیح ہے کیونکہ یہ رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی زات پر حملہ آور ہے یہ رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے

جب اس کذاب پر حملہ کیا گیا تو دل خراش حادثہ ہوا جو اب تک نہ ہوا تھا وہی ہوگیا یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہؓ کرام کی لاشیں بکھری پڑی ہیں کسی کا سرتن سے جدا ہے۔ کسی کا سینہ چرا ہوا ہے۔ کسی کا پیٹ چاک ہے۔ کسی کی آنکھیں نکلی ہوئی ہیں۔ کسی کی ٹانگ نہیں ہے۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے کسی کا بازو کندھوں سے جدا ہے کسی کی ٹانگ جسم سے الگ پڑی ہے اور کسی کا جسد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ یہ بارہ سو صحابہؓ اپنے خون میں نہا کر یمامہ کے میدان میں اس شان سے چمک رہے ہیں کہ چرخ نیلوفری پہ چمکنے والے ستارے انہیں دیکھ کر رشک کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ آسمانی ہدایت سے ایک کہکشاں زمین پر اتر آئی ہے یہ کون لوگ ہیں

اہل دنیا یہ وہ لوگ ہیں ۔ جنہیں اللہ کے نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آغوش نبوت لے کر پروان چڑھایا۔ جو مکتب نبوت محمدیہؐ کے فارغ التحصیل تھے۔ جن کے سینوں میں ایمان اور قرآن خود رسول خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتارا تھا۔ جنہیں اس دنیامیں ہی رب العزت نے جنت کے سرٹیفکیٹ جاری کردئیے تھے۔ جو اس مرتبے کے مالک ہیں کہ آج کی پوری امت مل کر بھی ان میں سے کسی ایک کے برابر نہیں ہوسکتی

یہ شہداء جو شہادت کی سرخ قبا پہنے استراحت فرما رہے ہیں۔ ان میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔ ستر بدری صحابہ ؓ ہیں جو کفرواسلام کے پہلے معرکہ ’’غزوئہ بدر‘‘ میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر رسولؐ کے پرچم تلے میدان بدر میں اترے تھے۔ اہل دنیا! یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کے پھول تھے جو یمامہ کے میدان میں مسلے گئے یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی کے موتی تھے جو یمامہ کے میدان میں رل گئے۔ یہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی راتوں کے آنسو تھے جو خاک یمامہ میں جذب ہوگئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے لے کر وصال نبویؐ تک تیس سال کے لگ بھگ جو عرصہ بنتا ہے،

اس میں جتنے غزوات ہوئے۔ جتنی جنگیں ہوئیں۔ جتنے تبلیغی وفود دھوکہ سے شہید کیے گئے۔ اور کفار کے مظالم سے جو صحابہ کرامؓ شہید ہوتے رہے ان کی کل تعداد259ہے یعنی پورے دور نبوی میں پورے اسلام کے لیے جو کل صحابہ شہید ہوئے ان کی تعداد259 اور صرف مسئلہ ختم نبوت کے لیے جو صحابہؓ شہید ہوئے ان کی تعداد بارہ سو ہے۔ جن میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں سناٹا چھا گیا دنیا اسلام میں، پر ہمت نہ ہاری گئی پیچھے نہ بھاگا گیا پھر بھی گرچہ دل و دماغ پر ریشہ طاری تھا پر ناموس رسالت پر خاموشی گوارہ نہیں کسی قیمت پر نہیں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دل آزردہ ہیں پر جذبہ حر میں کمی نہ آئی ہمت و عظیمت کا مظاہرہ کیا اور دیکھا دیا

اول ترجیح رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے دفاع کو ہے یہ کچھ باتیں جو عرض کردیں شاید ہمارے لئے مشعل راہ ثابت ہوں جو اس حال میں زندہ ہیں کہ ناموس رسالت کے دشمن دندناتے پھر رہے ہیں اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باغی نبوت کے جلائے چراغ کو بجھانے کے در پے ہیں نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم پر ہر طرف حملہ کیا جارہا ہے تو ایسے میں کردار صحابہ کرام رضوان اللہ ادا کرنے والے کیسے مٹھی نیند سوئے ہوئے ہیں کیسے غم روزگار میں مصروف ہیں کیا اب وہ ہمارے پیارے نہیں کیا اب وہ ہمارے رہبر نہیں کیا اب وہ ہماری روح کی تسکین نہیں کیا اب وہ ہمارا قرار نہیں کیا اب وہ ہماری جان نہیں کیا اب وہ ہم کو گوارہ نہیں کیا اب وہ قافلہ حق کے قائد نہیں

نہیں ایسا نہیں ہیں تھے رہیں گئے ہائے پر شومئے قسمت غم زندگی سے فرصت نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں