111

ضمنی الیکشن میں حکومت کوجھٹکا

عمرفاروق /آگہی

ملک میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج نے پاکستان تحریک انصاف کوپریشان اورمسلم لیگ ن کوخوش کردیاہے حیران کن طورپرحکمران جماعت اٹک ،جہلم ،لاہور،ڈیرہ غازی خان ،سوات ،مردان ،بنوں اورفیصل آبادمیں قومی اورصوبائی اسمبلی میں اپنی جیتی ہوئی نشستیں ہارگئی ہے ضمنی الیکشن کے نتائج نے پچاس روزہ حکومت کوایک زوردارجھٹکادیاہے عمومی طورپریہ تاثرہوتاہے کہ ضمنی الیکشن میں حکمرا ن جماعت ہی کامیابی حاصل کرتی ہے مگرپنچاب میں حکمران جماعت سے اپوزیشن جماعت یعنی ن لیگ نے قومی اورصوبائی اسمبلی زیادہ نشستیں جیتی ہیں اسی طرح خیبرپختونخواہ جہاں پاکستان تحریک انصاف کی مضبوط حکومت ہے وہاں بھی اپوزیشن جماعتوں نے اپنارنگ دکھایاہے تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑااپ سیٹ یہ ہے کہ پنچاب کے وزیراعلی کاتعلق ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے اوروہاں سے مسلم لیگ ن کے سرداراویس لغاری کامیاب ہوئے ہیں اسی طرح خیبرپختونخواہ کے وزیراعلی کاتعلق سوات سے ہے اوروہاں سے مسلم لیگ ن اوراے این پی کے امیدوارکامیاب ہوئے ہیں

ضمنی الیکشن کے نتائج نے عام الیکشن کے نتائج کومزیددھندلاکردیاہے کیوں کہ جن نشستوں پرپاکستان تحریک انصاف نے 25جولائی کے الیکشن میں لاکھوں ووٹ حاصل کیے تھے ضمنی الیکشن میں وہ چندہزارووٹ حاصل کرسکے ان نتائج نے اپوزیشن جماعتوں کے ان شکایات اورالزامات کوتقویت دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن جیتی نہیں بلکہ جتوایاگیاہے اگرچہ 25جولائی کوہونے والے ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تیس رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے مگراس کمیٹی کی سربراہی اوررپورٹ کی مدت کے تعین کافیصلہ پہلے اجلاس میں کیاجائے گا ۔

ضمنی الیکشن کے نتائج پر پی ٹی آئی کے قائدین مختلف بیانات دے رہے ہیں لاہورمیں خواجہ سعدرفیق سے شکست کھانے والے ہمایوں اخترخان نے اپنی شکست کی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قرار دے دیا ہے۔ ہمایوں اختر خان کا کہنا تھا کہ خاموش ووٹر قیمتوں میں اضافے کیخلاف باہر نکلا، میں نے وزیرِاعظم کو کہا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے کیونکہ اس کا الیکشن پر اثر پڑے گا۔جبکہ تحریکِ انصاف کے مشاورتی اجلاس میں وزیرِاعظم عمران خان کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات ضمنی الیکشن میں شکست کی وجہ بنے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے وزرا نے امیدواروں کی مہم نہیں چلائی اور نہ ہی حکومت نے ضمنی انتخابات سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔

یہ ساری باتیں اوروجوہات درست ہوں گی مگرنئے پاکستان کی نئی حکومت نے اپنے پہلے پچاس دنوں میں جس طرح عوام کی امیدوں پرپانی پھیراہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی الیکشن سے قبل عوام کوجوسہانے خواب دکھائے گئے تھے حکومت کے قیام کے بعد حکمرانوں کی طرف سے ایسی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے جس سے عوام کواحساس ہوکہ ان کی بھلائی کے لیے کچھ کیاجارہاہے حکومت بھینسیں ،ہیلی کاپٹراورگاڑیاں فروخت کرکے ملک کی معیشت چلاناچاہتی ہے جس پرایک عام آدمی بھی طنزکررہاہے ،ناتجربہ کارٹیم نے چنددنوں میں ہی معیشت کابھرکس نکال دیاہے اورسرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں

جبکہ وزیرخزانہ ڈالرکی اونچی اڑان کوقابوکرنے میں ناکام رہے ہیں معیشت کوسنبھالا دینے کے لیے حکومت سعودی عرب ،عرب امارات کے ریال کے حصول کے لیے پاؤں مارتی ہے تودوسری طرف آئی ایم ایف کے درپرسجدہ ریزہوتی ہے ،ایک طرف چین ،امریکہ کے سامنے بھی کشکول لیے کھڑی ہے تودوسری طرف اندرون وبیرون ملک پاکستانیوں سے چندہ بھی مانگ رہی ہے ایسے حالات میں پاکستان کے باشعورکیسے اس حکومت کوووٹ دیں گے ؟

پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن میں بھی موروثی سیاست کوجس طرح پروان چڑھایاہے اس کی بھی مثال نہیں ملتی وفاقی وزیرپٹرولیم غلام سرورخان کے بیٹے ،وفاقی وزیرریلوے شیخ راشدشفیق کے بھتیجے ،وفاقی وزیردفاع پرویزخٹک کے بھائی اوربیٹے ،سپیکرقومی اسمبلی کے بھائی ،مظفرگڑھ سے ایم این اے کی والدہ ،سوات میں ایم این اے کے بھائی کوٹکٹ دیئے یہ وہ تبدیلی ہے جس کالولی پاپ بیس سال سے دیاجارہاتھا اسی طرح پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی موروثی سیاست کوپروان چڑھایاگجرات سے سپیکرپنچاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کے بیٹے اورتلہ گنگ سے چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے کواسمبلی میں پہنچایاگیاہے ۔

اس سب کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اوران کی اتحادی جماعتوں نے گیارہ قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے چھ نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے اورمسلم لیگ ن نے چارقومی اسمبلی اورمتحدہ مجلس عمل نے ایک نشست پرکامیابی حاصل کی یوں پی ٹی آئی اوراس کی اتحادی جماعتیں پورازورلگاکر اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں محض ایک اضافی نشست حاصل کرسکے ہیں جبکہ راولپنڈی کی نشست این اے 60پرشیخ راشدشفیق کی جیت بھی مشکوک ہے۔بلوچستا ن ،پنچاب اوروفاقی حکومتیں اب بھی اتحادی جماعتوں کے رحم وکرم پررہیں گی ۔اوربیساکھیوں کے سہارے پرہی چلیں گی ۔

ضمنی الیکشن میں ٹیکسلا ،راولپنڈی ،جہلم ،لاہور،گجرات ،سوات میں وفاقی وصوبائی وزاراء کی مداخلت کے خلاف درخواستیں الیکشن کمیشن کودی گئی جن پرتاحال کوئی کاروائی نہیں ہوئی ،ضمنی الیکشن سے چنددن قبل اپناگھرہاؤسنگ منصوبے کااعلان کیاگیا اورپچاس لاکھ گھروں کی تعمیرکے لیے پہلے مرحلے میں زیادہ تروہ شہر شامل کیے گئے جہاں ضمنی الیکشن ہورہے تھے ۔ شیخ رشیدنے خسارے میں چلنے والے محکمے ریلوے میں بھرتیوں کااعلان کیا اورراولپنڈی کے حلقے میں کئی نوجوانوں کونوکریوں کاجھانسہ دیایہ دھاندلی نہیں تھی تواورکیاتھا اسکے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف کوضمنی الیکشن سے قبل محض چنددن قبل گرفتارکرلیاگیا ،مسلم لیگ ن کے امیدوارخواجہ سعدرفیق ضمانت کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکرلگاتے رہے اس کے باوجود پی ٹی آئی اچھے نتائج حاصل نہیں کرسکی ہے ۔

ضمنی الیکشن کے نتائج نے پی ٹی آئی کے لیے ایک اورمشکل پیداکردی ہے ،جنوبی پنجاب صوبہ بننے کی صورت میں عثمان بزدارکی حکومت ختم ہوجائے گی ،ضمنی الیکشن کے نتائج کے بعد وسطی وشمالی پنچاب میں مسلم لیگ ن کی سیٹیں زیادہ ہوگئی ہیں البتہ جنوبی پنچاب صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت برقراررہے گی۔ وسطی پنچاب میں کل صوبائی سیٹوں کی تعداد202ہے جن میں سے پاکستان مسلم لیگ ن کی سیٹوں کی تعداد97تھی ضمنی الیکشن میں سات نشستوں پرکامیابی کے بعداب یہ تعدادبڑھ کر104ہوگئی ہے جبکہ وسطی پنچاب میں پاکستان تحریک انصاف کی سیٹوں کی تعداد87تھی جس میں ضمنی الیکشن میں ایک سیٹ کااضافہ ہواہے، جس کے بعدان کی سیٹوں کی تعداد88ہوگئی ہے

وسطی پنچاب میں اس وقت پارٹی پوزیشن یہ ہے کہ مسلم لیگ ق کے 6پیپلزپارٹی ،راہ حق پارٹی کے ایک ایک ممبران اور2آزادممبران ہیں ان کوساتھ ملاکربھی تحریک انصا ف وسطی پنچاب میں اکثریت حاصل نہیں کرسکتی ہے ،پنجاب میں 13 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہواہے، جن میں 5 سیٹیں جنوبی پنجاب میں جبکہ باقی 8 سیٹیں شمالی اور وسطی پنجاب میں تھیں۔ ان 8 سیٹیوں میں سے مسلم لیگ ن سات سیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہے؟ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک اورمشکل کھڑی کردی ہے اگرپی ٹی آئی حکومت وعدے کے مطابق جنوبی صوبہ بناتی ہے توان کو جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی قیمت پنجاب حکومت کی خاتمے کی صورت میں ادا کرنی ہو گی۔

دوسری صورت میں تبدیلی کے علمبرداروں کو ہارس ٹریڈنگ کا سہارا لینا پڑے گا۔جبکہ دوسری طرف نئے صوبے جنوبی پنجاب اور پنجاب کی پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح سے ہو گی۔یہاں 95 ایم پی ایز میں سے 53کا تعلق تحریک انصاف سے تھا جو  اب بڑھ کر58ہوگئی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے ممبران کی تعداد، 29 تھی جوایک نشست کے ا ضافے سے 30ہوگئی ہے جبکہ ، پیپلز پارٹی 5، مسلم لیگ ق2،اور2 آزاد ایم پی اے ہیں۔ اس طرح اس نئے صوبے میں تحریک انصاف کے حکومتی اتحاد کے پاس 95 میں سے 60 سیٹیں ہیں۔ اس لئے یہاں کا وزیر اعلی اور صوبائی حکومت آسانی سے تحریک انصاف کو مل جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں