1,449

بھٹکا مسافر قسط 3

شاکرہ مفتی

کئی گھنٹے پھر بیہوش رہنے کے بعد جب ہوش آیا تو ظاہر شاہ کو ایسا لگا بس اب اسکا آخری وقت آپہنچا ہے اور موت کا فرشتہ سر پر کھڑا ہے اس نے دل ہی دل میں رب کو پکارا اسکے سامنے اس کے سارے گناہ گھوم رہے تھے دل سے اللہ سے معافی طلب کرنے لگا اور دل سے دعا نکلنے لگی یا خدا ایک بار بس موقع دے دے  سب برے کام چھوڑ دونگا اور آپکی فرمانبرداری میں وقت گزارونگا

یا اللہ بس مدد فرما دیں مجھے معاف فرما دیں اس وقت کوئی مدد نہیں کر سکتا سوائے آپ کے.. یا اللہ.. ظاہر شاہ کی زبان ہلنا شروع ہوئی اور یا اللہ کے الفاظ نکلنے شروع ہو گیے..

یہی انسان کو خبر نہیں ہوتی اور وہ گناہ پہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے کب اور کسطرح موت کا بلاوہ آجائے کچھ پتہ نہیں تقدیر میں موت کسطرح لکھی ہے جب ہوش میں ہوتا ہے تو اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا اگلے ہی لمحے اس کے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے میرے ساتھ کچھ نہیں ہو سکتا..

بظاہر جو کچھ اسکی زندگی میں ہوا اس میں ظاہر شاہ کا کوئی قصور نظر نہیں آتا مگر انسان کے الفاظ انسان کو لے ڈوبتے ہیں

شوہر اگر خراب نکلتا ہے تو بیویاں کہتی ہیں ہمارا کیا قصور جو ہمیں ایسی سزا مل رہی ہے جبکہ وہ سزا نہیں ایک آزمائش ہوتی ہے جس میں صرف اللہ پاک یہ آزما رہے ہوتے ہیں کہ میرا بندہ میرے قریب آتا ہے یا مجھ سے اور دور چلا جاتا ہے

بیوی اگر خراب ہوتی ہے بد زبان تو میاں سوچتا ہے میں تو اتنا اچھا ہوں پر میری قسمت میں ایسی عورت کیوں آئی ہے خدا سے شکوہ کرنے لگتا ہے  دوسری عورتوں کو دیکھ کر آہیں بھرتا ہے کہ کاش میری بیوی بھی ایسی اچھی ہوتی خیال رکھنے والی مگر وہ یہ نہیں سوچتا کہ اللہ نے جس قابل اسے سمجھا وہی دیا ہے اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لایا جائے بہنوں کے اوپر حکم چلانا ماؤں کو اپنا غلام سمجھنا باپ کو غلط ماننا حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ نے جو تقدیر بنا کر بھیج دی اب اس میں شکر کا پہلو دیکھ کر زیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جائے اور صبر سے زندگی گزاری جائے

مگر اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب ظاہر شاہ جیسے لوگوں کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں وہ بھی اللہ کا ہی کرم ہوتا ہے جو اس وقت اللہ کا نام لبوں پر آجاتا ہے اور ہدایت مل جاتی ہے ورنہ تو جتنی نافرمانی اللہ کی کی جاتی ہے انسان ہدایت کے بھی قابل نہیں ہے مگر اللہ واقعی رحیم و کریم ہے اور اپنے ہر بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے جبھی تو اپنے بندے کو گمراہی میں جاتا ہوا دیکھ کر اسے واپس اپنے پاس لے آتا ہے اور ہدایت اسی کو کہتے ہیں

ظاہر شاہ کو اپنی آنکھوں میں روشنی محسوس ہوئی اور لگا کوئی آس پاس ہے ظاہر شاہ نے ہلکے ہلکے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی یہ سعدیہ تھی جو اس کے پاس کھڑی ہوئی تھی… ظاہر شاہ دوبارہ بیہوشی کے عالم میں چلا گیا  جب دوبارہ ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھا اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور پہچاننے کی کوشش میں لگ گیا.. اسکی ماں اسکے پاس کھڑی تھی..

میں یہاں کیسے آیا؟ ظاہر شاہ نے ماں کو دیکھ کر پوچھا

سب بتا دیں گے بیٹا ابھی آرام کرو.. ماں نے دھیرے سے کہا

نہیں ماں مجھے بتائیں میں کہاں تھا اور وہاں کیسے پہنچا اور وہاں سے کون نکال کر ہسپتال لایا؟

بیٹا تم کئی دن تک گھر نہیں آئے تو میں اور تمہاری بہنیں بہت پریشان ہو گئیں تھیں ہم لوگ سعدیہ کے گھر گئے اس کے میاں کمال بھی امریکہ سے آئے ہوئے تھے انہوں نے ہم  سبکو پریشان دیکھا تو تمہیں ڈھونڈنا شروع کیا تم نہیں ملے دوستوں سے پوچھا کسی نے کچھ نہیں بتایا پھر کمال نے اپنے ایک پولیس والے دوست سے مدد لی انہوں نے تمہیں ڈھونڈنا شروع کیا..

تو تمہارے دوستوں میں سے ایک دوست پر شک ہوا کیونکہ وہ ملنا نہیں چاہ رہا تھا جب پولیس نے اس سے سختی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم اس کے گھر نشے کی حالت میں پستول مانگنے آئے تھے اس نے نہیں دی تو تم نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہاتھا پائی کرنے لگے اور دھمکی دی کہ سبکو مار کر تم اپنی جان بھی لے لوگے اس دوست نے تمہیں جب تم گلی میں نشے کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کہیں کال کوٹھری میں بند کر دیا تاکہ تم کچھ غلط نا کر سکو پھر پولیس نے پوچھ گچھ شروع کی تو وہ دوست ڈر گیا کہ کہیں تم مَر نا گئے ہو اس لئے بتایا نہیں کہ اگر مردہ حالت میں ملتے تو اس پر الزام آجاتا سعدیہ اور کمال پولیس کے ساتھ جب وہاں پہنچے تو تم بیہوشی کی حالت میں تھے بس پھر وہ لوگ تمہیں ہسپتال کے آئے..

بیٹا اللہ نے تمہیں نئی زندگی دی تاکہ تم توبہ کر کے پاک صاف زندگی شروع کر سکو.. ظاہر شاہ کی ماں نے تمام کہانی ظاہر شاہ کو سنا دی..

ظاہر شاہ جب صحت یابی کے بعد گھر آیا تو اسکی زندگی بدل چکی تھی اس نے باہر جانا کینسل کر دیا اور یہیں رہ کر کام شروع کر دیا کمال نے اور سعدیہ نے بھی اسکا ساتھ دیا دونوں نے گتے کا بزنس اسٹارٹ کیا…. ظاہر شاہ نے بھی سعدیہ اور کمال کے احسان کو نبھایا اور دیانتداری کے ساتھ انکا بزنس سنبھالا..

آج ظاہر شاہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے میری کہانی کے ہیرو ظاہر شاہ کی زندگی کے حالات سے کئی سبق ملتے ہیں ایک غصے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جب ظاہر شاہ غصے میں تھا اور اگر وہ کچھ غلط کر بیٹھتا اسکی سزا ساری زندگی اسکی ماں بہنیں بھگتیں..

دوسری اہم بات کبھی بہنوں یا بیٹیوں کو کسی پرائی لڑکی پر بھروسہ کر کے انہیں مستقل اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ تنہائی ایسی چیز ہے کہ اس میں صرف مرد اور عورت ہی نہیں بہک سکتے بلکہ شیطان اپنا وار کہیں بھی کسی پر بھی کر سکتا ہے

تیسری اہم بات اللہ کو پکارنے کا وقت ہر لمحہ ہر گھڑی موجود ہے غافل انسان کو جب تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ کسی آزمائش میں مبتلا نا ہو جائے کبھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے ورنہ زندگی میں ایسے لمحات آجاتے ہیں کہ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے وہ دوسروں کی غلطی دیکھتا ہے اسکی غفلت کی پٹی خود اسکی آنکھوں پر بندھی ہوتی ہے غفلت سب سے بری چیز ہے چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو دنیاوی یا دینی محتاط انسان نقصان کم اٹھاتے ہیں.. The End.. 😊

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں