128

اپوزیشن جماعتیں اورقومی مجلس مشاورت

عمرفاروق /آگہی
کسی بھی جمہوری معاشرے میں اپوزیشن درحقیقت متبادل قیادت ہوتی ہے جو حکومتِ وقت کی غلطیوں ،کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرتی ہے کہ اس میں ملک چلانے اور ملکی معاملات کو بااحسن طریقے سے سرانجام دینے کی صلاحیت و قابلیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔موجودہ حکومت کے خلاف اگرچہ اپوزیشن کے کردارکی کوئی زیادہ ضرورت نہیں ہے کیوں کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آنے کے باوجود اپوزیشن کے خمارسے باہرنہیں نکلی ہے ،اپنے دعووں کے برعکس عملی طورپرایسی غلطیاں کرہی ہے کہ اپنے گناہوں کے بوجھ تلے ہی دبی جارہی ہے مگراس دورمیں بھی اپوزیشن کرنے کے لیے ایک ہی شخصیت سنجیدہ ہے وہ شخصیت پارلیمنٹ سے باہرہوکربھی ایک حقیقی اپوزیشن کاکرداراداکررہی ہے

اگرچہ اس کاکوئی رہنماء ابھی تک نیب کے شکنجے میں نہیں آیاہے جبکہ باقی سیاسی جماعتوں کے نمبرلگے ہوئے ہیں مگرپھربھی اس وقت مزاحمتی سیاست مولانافضل الرحمن کے بیا ن وعمل سے چھلک رہی ہے جبکہ مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اوردیگراپوزیشن جماعتیں دفاعی سیاست کررہی ہیں ان کی طرف سے تاحال اپوزیشن کاکوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیاہے ۔

مولانااس حکومت کے خلاف بڑامحاذقائم کرناچاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ اسلام آبادمیں مستقل سکونت اختیارکرتے ہوئے ،،ان کے محلے میں گھر لے لیاہے اوریہ مسکن نئے پاکستان کے نئے وزیراعظم کے محل کے بالکل سامنے ہے ۔مولانافضل الرحمن متحرک ہیں کہ کسی ناکسی طرح منتشراپوزیشن کومتحدکیاجائے مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف نے گرفتاری سے قبل مولاناسے ملاقات کرکے اس حوالے سے مشاورت کی تھی ۔مولانانے صدارتی الیکشن کے تلخ تجربے کوبھلاتے ہوئے گزشتہ روز اپنے دیرینہ دوست سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے ایک مرتبہ پھرسے اپوزیشن کومتحدہوکرآگے بڑھنے کی پیشکش کی ہے اورشایداب آصف علی زرداری کوبھی اندازہ ہوگیاہے کہ ہاتھ ان کے گریبان تک بھی پہنچنے والاہے اپوزیشن جماعتوں کوآج نہیں توکل لازمی متحدہوناپڑے گا۔

مولانافضل الرحمن نے اسلام آبادمیں مذہبی جماعتوں کی ایک کامیاب قومی مجلس مشاورت منعقدکی جس میں ملک کی تمام بڑی مذہبی جماعتوں اوراتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین نے شرکت کی ۔اتحادتنظیمات مدارس دینیہ اورحکومت کے درمیان چنددن قبل ہی مذاکرات ہوئے تھے اس حوالے سے وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانامحمدحنیف جالندھری نے تحریری وزبانی طورپر سامعین کوآگاہ کیا مگرمولانافضل الرحمن نے قومی مشاورت سے قبل مذاکرات کرنے پرتحفظات کااظہارکیا

مولانافضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کچھ چیزیں بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت ہوتی ہیں حکمرانوں کاایجنڈہ مدرسہ کوقومی دھارے میں لانے کانہیں بلکہ مدرسہ کوپہلے دہشتگردقراردینااورپھربندکرنے کاہے ۔، پرویزمشرف پی پی پی ن لیگ اور اب موجودہ حکومت کی مدارس کے حوالے سے ایک ہی پالیسی ہے۔ حکومت وقتی طورپر میٹھی میٹھی باتیں کرے گی مگر یہ سب وقتی ہوگا علما ء کسی خوش فہمی میں نہ رہیں ورنہ مارے جائیں گے۔ ملک سیکولر بنایا جارہا ہے اس وقت آئین کی اسلامی دفعات نشانے پر ہیں ہم اس وقت اسلامی نہیں لبرل پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، 1994سے مدارس کے حکومتوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات ہوئے مگران مذاکرات سے مدارس کو نقصان ہی ہوا اب مذاکرات بند کردینے چاہیں ۔

مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پرایک واقعہ سناتے ہوئے کہاکہ میرے پاس ایک جنرل آیا مدارس پر بات کرنا چاہتا تھا میں نے انہیں کہا آپ پر بیرونی دباو نہ ہوتا تو آپ میرے پاس نہ آتے مجھے یقین دلاؤ کہ آپ مدارس اور نصاب کے خاتمے کی نیت نہیں رکھتے؟ میرے یہ کہنے پر جنرل مجھے گھورگھور کر دیکھنے لگا۔
قومی مشاورت کے اختتام پراگرچہ مذہبی قائدین نے مدارس کی طرف سے مذاکرات کی تائیدکرتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کیاجس میں کہاگیاکہ مدارس دینیہ نے جو 20 نکات پیش کیے ہیں اس کی تائید کرتے ہیں ان مطالبات پرعمل درآمدکے لیے حکومت کوایک ماہ کاوقت دیتے ہیں بصورت دیگر اپنا اگلا لائحہ عمل دیا جائے گا

توہین رسالت کے قانون سے متعلق اتفاق رائے ہے کہ کسی تبدیلی کی اجازت نہیں دینگے۔
قومی مجلس مشاورت میں قائدین کے درمیان نوک جھوک اورگلے شکوے بھی ہوئے قاری حنیف جالندھری نے جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی ،تحریک ا نصاف کی اتحادی رہی بتائے کے پی کے میں تعلیمی اداروں میں ہم جنس پرستی کی تصاویر کیسے بنیں اورہم جنس پرستی کی ترویج کرنے والی این جی اوز  سے عصری اداروں کانصاب کیوں بنوایاگیا ؟جس پرمتحدہ مجلس کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کچھ وضاحت کرنے کی کوشش کی مگربات بن نہ پائی مگرجب سراج الحق کی باری آئی توانہوں نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی حکومت میں شامل ہونے پر کوئی جرم ہمارے حصے میں آتا ہے اگر اس اصول کو تسلیم کریں تو مولانا فضل الرحمن کئی حکومتوں میں رہے کیا ان کے جرائم میں انہیں شریک سمجھیں ؟

جماعت اسلامی جب تک کے پی کے میں حکومت میں رہی ہم جنس پرستی کی تصاویر نہیں بنائی گئیں بعدازاں قاری حنیف جالندھری نے بلیغ اندازمیں کہاکہ یہ حکایت تھی شکایت نہیں تھی ا س حوالے سے ہمارے پاس شواہدموجود ہیں ۔ قاری حنیف جالندھری نے اپنی تقریرمیں کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے علاوہ ایک اتحادبنایاجائے جودینی مدارس اورمعاملات پرپروگرامات کرے اس کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہاکہ جب مولانا سمیع الحق تحریک انصاف کی حکومت کے اتحادی بنے اس کے بعد جو ہوا ان سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں۔

کانفرنس میں علامہ قاضی نیازحسین نقوی نے مولانافضل الرحمن کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں یہ کانفرنس اب کیوں یادآئی ہے متحدہ مجلس عمل کوشکست کیوں ہوئی ہے اورایم ایم اے بنانے میں تاخیرکی گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ حکومتوں سے باہرنہیں آناچاہتے تھے ۔
،سینیٹر سراج الحق نے خطاب میں کہاکہ پاکستان یکساں نظام و نصاب تعلیم عربی اور اردو لازمی کیا جائے عربی کا آئینی تقاضا ہے پارلیمنٹ کے ماتھے پر کلمہ ضرور ہے مگر عمل نہیں سودی نظام کے خاتمے تک نظام ٹھیک نہیں ہوگا چنددن قبل ایک خاتون نے بینر اٹھایا ہواتھاکہ میرا جسم میری مرضی۔ سودی نظام کا خاتمہ کرکے ہی مدینہ کی ریاست قائم کی جاسکتی ہے۔

علامہ شاہ اویس نورانی کاخطاب فکرانگیزاوردلائل سے مزین تھا انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی گولڈ سمتھ نے نہیں بنایا تھا تعلیمی نصاب میں فتنہ قادیانیت کے حوالے سے کوئی آگاہی نہیں ہے میڈیا پر سنسر ہے، ملک میں سول مارشل لا لگایا گیاہے افسوس سے کہتے ہیں سانحہ بلدیہ، سانحہ بارہ مئی، سانحہ ربیع الاول کے کیسز التوا کا شکار ہیں لیکن ججز سیاسی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں ممتاز قادری کو پھانسی دیدی گئی اور توہین رسالت کی مرتکب خاتون کا کیس دوسال تک التوا کا شکار رکھاگیا یہ کیسا انصاف ہے؟مدینہ کی ریاست کی حالت یہ کہ فیصل مسجد میں فلموں کی شوٹنگ ہورہی ہے، لندن پلان کو اب تو تسلیم کرلیا گیا الیکشن میں منصوبہ بندی سے دینی طبقہ کو کرش کیا گیا جس لابی نے موجودہ حکومت کو لایا اسی نے دینی جماعتوں کو آوٹ کیا۔

عبداللہ حمید گل نے اپنے خطا ب میں کہاکہ مولانافضل الرحمن کی زندگی کوشدیدخطرہ لاحق ہے سوشل میڈیاپرمنظم اندازمیں ان کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ،ڈاکٹرشکیل آفریدی اورکلبھوشن کوپھانسی دی جائے جمعیت علما ء اسلام جموں وکشمیرکے امیرمولاناسعیدیوسف نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کی کشمیرسے متعلق غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ وفاقی حکومت نے ناتجربہ کاراورنااہل شخص کووزیرامورکشمیرلگایاہے یہ کشمیری عوام کی توہین ہے ۔

کانفرنس سے مولاناعبدالغفورحیدری مولافضل الرحمن خلیل ،خواجہ خلیل احمد،مولانااللہ وسایا،سینیٹرساجدمیر،مولاناکفیل شاہ بخاری ،مولاناالیاس گھمن ،مولاناالیاس چنیوٹی،مولاناعبدالمالک،پیرمحفوظ مشہدی ،علامہ ذبیراحمدظہیر،مولاناامجدخان،مولاناعلی محمدابوتراب ودیگرنے بھی خطا ب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں