5,953

بھٹکا مسافر قسط 2

شاکرہ مفتی 

ظاہر شاہ کی بھوک بڑھتی جا رہی تھی اور اب اس جگہ میں بدبو پھیل چکی تھی گندگی کی وجہ سے اپنے ہی جسم سے گھن آنے لگ گئی تھی.. قدرت نے پانی کتنی بڑی نعمت بنایا ہے اسکا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے صفائی کو نصف ایمان کیوں قرار دیا ہے

یار یہ شراب بھی کمال کی چیز ہے انسان کے ہوس کے نشے کو بڑھا دیتی ہے.. ظاہر شاہ کا نکاح ہو چکا تھا اور اسکا انٹرویو بھی کامیاب ہو گیا تھا اس خوشی میں وہ دوستوں کے ساتھ پارٹی انجوائے کر رہا تھا

دیکھو میرے پاس شراب سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہے جو انسان کے پاس ہو تو بھرم ہی الگ ہوتے ہیں .. ایک دوست نے قمیض اُٹھا کر دکھائی جہاں اس نے ایک پستول چھپائی ہوئی تھی..

ابے یار دکھا گولی ہے یا بس خالی پستول لے آیا؟ ظاہر شاہ نے حیرت ناک انداز میں پوچھا
ابے گولیاں موجود ہیں یہاں چل گئی تو پکڑے جائیں گے ابھی نہیں بعد میں کہیں اور جا کر ہوائی فائرنگ کریں گے.. دوست نے واپس کپڑا ڈھکتے ہوئے جواب دیا

ابے سالے دے مجھے دو تین دن تک کے لئے تو رکھوا دے پکس کھینچ کر فیس بک پر ڈالوں گا.. ظاہر شاہ سے صبر نہیں ہورہا تھا اور اسکا بس نہیں چل رہا تھا کسی طرح پستول ہاتھ میں لے کر دنیا کو دکھا دے کہ وہ کتنا بہادر انسان ہے..

یہ اسلحہ بارود اب صرف نمائش کے لئے رہ گیا ہے پہلے کبھی یہ لوگوں کی جان بچانے کے کام آتا تھا اب تو ناجائز اسلحہ کی اسمگلنگ کی وجہ سے اسکو پانا اتنا آسان ہو گیا ہے زیادہ تر اب یہ معصوم اور مظلوم لوگوں کی جان لینے یا چوری ڈکیتی میں کام آرہا ہے اس بارود کی وجہ سے لوگوں کے خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں

ظاہر شاہ کی بہن جسکا نام ثمینہ تھا اسکی ایک دوست تھی ثمرہ جو عمر میں بھی ثمینہ سے بڑی تھی وہ اکثر ظاہر شاہ کے گھر آتی جاتی رہتی تھی اور ثمرہ اور ثمینہ دونوں جب ملتیں تھیں تو ایک ساتھ بیٹھ کر فلمیں دیکھ لیا کرتی تھیں اب تو موبائل فون نے یہ کام اور آسان کر دیا ہے یو ٹیوب کے زریعے آرام سے گھر بیٹھے پوری پوری فلمیں دیکھ لی جاتی ہیں اور خانہ خرابی یہ ہے کہ فلمیں بھی کچھ ایسے موضوعات پر بن رہیں ہیں جو انسانی جذبات کو ابھار کر انہیں وہ کچھ کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں جو فطرت کے خلاف جاتا ہے

موبائل پر جو وڈیوز آسانی سے ادھر ادھر ٹرانسفر ہو رہی ہیں اس کی وجہ سے دنیا میں نئے نئے شوق جنم لے رہے ہیں جس میں ہم جنس پرستی کی شرح بہت بڑھتی جا رہی ہے وفا اب لوگوں کو اپنے ہم جنس میں مل رہی ہے..

ثمرہ کو کچھ ایسی ہی لت لگی ہوئی تھی جو فطرت کے خلاف جاتی تھی اسکی دوستی بھی ایسی ہی لڑکیوں کے ساتھ تھی جو آپس میں مل کر اپنے جذبات کو تسکین پہنچاتی تھیں اس نے ثمینہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیا

ماہرین کی جو پہلے تحقیق ہوئی تھی وہ یہی تھی کہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے مگر موجودہ تحقیق کے مطابق یہ بیماری نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے جذبات کو نئے نئے رنگ دینے کی لگن میں یہ چیز عام ہوتی جا رہی ہے

اسی دوران ثمینہ کا رشتہ آگیا اور گھر والوں نے ہاں کر دی جب یہ بات ثمرہ کو پتہ لگی تو اس نے حسد میں آکر ثمرہ کے ہونے والے شوہر کا فون نمبر حاصل کر کے اسکو اپنی اور ثمرہ کی کچھ ایسی پکس سینڈ کر دیں جس میں ثمینہ کی شکل واضح تھی اور ثمرہ نے اپنی شکل چھپا رکھی تھی ثمرہ ہر دفعہ ثمینہ کے ساتھ یہ کام کرتے ہوئے اسکی پکس لے لیا کرتی تھی اور پھر اکثر انہیں پکس سے ڈرا کر اپنے ساتھ اسکو ملوث رکھتی تھی..خالد کو جب ثمینہ کی ایسی پکس ملیں تو اس نے رشتہ توڑ دیاہمیں یہ رشتہ منظور نہیں.. خالد کی ماں نے ثمینہ کی اماں کو فون کر کہ کہا مگر کیوں ایسی کیا وجہ ہوئی ہے؟ ثمینہ کی اماں نے حیران ہو کر پوچھا..

آپ کی بیٹی اتنی گھٹیا ہوگی ہم سوچ نہیں سکتے تھے ایک لڑکی کے ساتھ اتنی گھٹیا پکس کھنچواتا ہے کوئی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ کیسا الزام لگا رہی ہیں شرم آنی چاہیے آپ کو اتنی گھٹیا بات کہتے ہوئے.. ثمینہ کی امی رونے لگ گئیں یہ الزام نہیں حقیقت ہے خالد کے پاس وہ  پکس موجود ہیں جس میں آپکی بیٹی صاف نظر آرہی ہے.. خالد کی اماں نے غصے میں ساری سچائی بیان کر دی اور کہا یہ پکس ظاہر شاہ کو بھیج دی جائیں گی..

امی وہ میں خود سے نہیں تھی ملوث ثمرہ نے مجھے اس چیز میں مبتلا کیا امی مجھے تو عجیب لگ رہا تھا مگر ثمرہ اکثر اکیلے میں آکر ایسی حرکتیں کرتی تھی بلکہ میں نے کئی بار اسے منع بھی کیا مگر وہ کہتی تھی کیا ہوا اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے لڑکے تو بے وفائی کر جاتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں مگر لڑکیوں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا اور کنوارا پن بھی قائم رہتا ہے..ثمینہ رو رو کر اپنی امی کو سچائی بتا رہی تھی وہ اس عمر میں نہیں تھی کہ ان باتوں کو پوری طرح سمجھ سکے ثمرہ اس سے عمر میں کافی بڑی تھی..

ظاہر شاہ جب گھر آیا تو اس کی امی نے یہ بات اس سے چھپا لی اور کہہ دیا کہ خالد کے گھر والوں نے انکار کر دیا ہے انکار کی وجہ نہیں بتائی..مگر کیوں انکار کر دیا وجہ تو بتانی تھی اچھا بھلا رشتہ ہو رہا تھا خالد ایک بہت نیک اور شریف انسان تھا ہماری بہن بہت خوش رہتی.. ظاہر شاہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا میں فون کرتا ہوں خالد کو اس نے غصے اور افسوس سے اپنی ماں کو کہا،نہیں تم فون مت کرنا اب ویسے  ہم بھی یہ رشتہ نہیں کریں گے خالد کی اماں مجھ سے بہت بدتمیزی سے بات کی ہے میں نے انہیں سمجھایا بھی مگر وہ رشتہ نہیں کرنا چاہتیں

ظاہر شاہ نے پھر بھی خالد کو فون ملا لیا.. اپ لوگوں کو جب رشتہ کرنا ہی نہیں تھا تو پہلے منع کر دیتے بات اتنی آگے بڑھ گئی جب پورے خاندان والوں کو ہم نے بتا دیا تب آپ لوگ منع کر رہے ہیں اور پھر میری امی کے ساتھ بدتمیزی بھی کر رہی ہیں آپکی امی.. ظاہر شاہ کا لہجہ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا

جی اگر آپ کی بہن کی سچائی پہلے پتہ لگ جاتی تو ہم یہ رشتہ ہی نہیں کرتے ہمیں تو آپ کے گھر والے بہت پسند آئے تھے مگر آپ کی بہن کا کردار صرف خراب ہی نہیں غیر فطری ہے مجھے تو یہ کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے.. خالد نے ظاہر شاہ کو بغیر لحاظ کئیے ساری سچائی بیان کر دی

ظاہر شاہ یہ سب سُن کر سکتے میں آگیا اسکے ہوش اُڑ رہے تھے  غیرت مند جذبات بھڑکنے لگے اس نے کچن سے جا کر بڑا چھرا اٹھایا اور ثمینہ کے کمرے میں جانے لگ گیا..ظاہر شاہ غصے پر قابو رکھو ظاہر شاہ ایسا مت کرو.. اماں نے ظاہر شاہ کے ہاتھ میں چھرا دیکھ کر ظاہر شاہ کو روکا..نہیں اماں میں نہیں برداشت کرونگا آج میں ثمینہ کو قتل کر دونگا اتنی گھٹیا حرکت..ظاہر شاہ نہیں ثمینہ ایسی نہیں ہے اسکو ثمرہ بہکاتی تھی وہ شرم کے مارے کسی کو بتا نہیں پاتی تھی.. خدارا ہوش کرو ظاہر شاہ ایسا نا ہو دنیا میں ہمارا تمہارا تماشہ بن جائے.. ظاہر شاہ چھرا پھینک کر غصے میں باہر نکل گیا

پھر دو دن تک وہ مارا مارا پھرتا رہا اسکا گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا نا ہی وہ ڈھنگ سے کھا رہا تھا اور نا ہی وہ جی پا رہا تھا اسکا دل چاہ رہا تھا اپنے آپ کو مار دے دوستوں میں بیٹھ کر وہ خاموشی سے شراب پیتا رہتا اور پھر رات کو سڑکوں پر پیدل چل چل کر اپنا برا حال کر لیا تھا… جاری ہے.. 😊 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں