160

دینی مدارس کامقدمہ

عمرفاروق /آگہی

اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین نے مدارس کامقدمہ نئی حکومت کوپیش کردیاہے دینی مدارس کامقدمہ پہلے دن سے نہایت مضبوط اورمدلل ہے اس مقدمے کوسننے سے قبل ہرحکمران مدارس کوفتح کرنے کااعلان کرتاہے مگرجب حکمرانوں کے سامنے بغیرلگی لپٹی کے بات کی جاتی ہے تووہ پھر مدارس کے حوالے سے اپنی روش تبدیل کرنے پرمجبورہوجاتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے کچھ ،،دین فروش ملاؤں،،نے دینی مدارس کوبدنام کیاہواہے وہ مدارس کے سدھارنے کے نام پرکبھی امریکہ کے درپرسجدہ ریزہوتے ہیں توکبھی جرمنی کی این جی اوسے پیسے لے کرمدارس کے طلباء ونصاب کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں حالانکہ پورے ملک میں ان کاایک بھی مدرسہ نہیں ہے ،یہ پیٹ کے پجاری اپنی مشیری یاکسی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے مدارس کے خلاف حکمرانوں کے کان بھرتے ہیں

اورپھرحکمران ایسے سیاہ کاروں کے دام فریب میں آکردینی مدارس کے خلاف اعلان جنگ کردیتے ہیں ،مدارس کے یہ ازخودٹھیکیداراعتدال کانعرہ لگاتے ہیں مگران کااپنانظریہ ،معاملات حتی کہ جسم اعتدال میں نہیں ہے ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے قومی معاملات خراب ہوتے ہیں ۔

دینی مدارس کے حقیقی قائدین اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے رہنماء ہیں  جو25ہزارسے زائدمدارس اور35لاکھ سے زائدطلباء کے ترجمان ہیں یہ قائدین پہلے دن سے حقیقی محافظ ہیں ان کے جذبات میں اخلاص ہے ان کاکوئی بیرونی ایجنڈہ نہیں ہے یہ ملک سے بھی مخلص ہیں اورمدارس کے ساتھ ان کی وابستگی کسی مفادیاغرض سے نہیں ہے اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین نے دودن قبل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اورمدار س کے حوالے سے اپنے مطالبات،مسائل ،تجاویزاورمعالات سے آگاہ کیا دینی مدارس کے وکیل اورترجمان قاری حنیف جالندھری نے اس موقع پر15نکات پرمحضرنامہ پیش کیا قاری حنیف جالندھری سیم وزر کے متوالے ہیں نہ جاہ وجلال کے متمنی ، ہمت کا ہمالہ اور استقامت کا کوہِ گراں ہیں وہ پر پیچ راہوں کو روند دینے کے عادی ہیں،

نائن الیون کے بعد جب عالمی سطح پر دینی اداروں کے خلاف منفی مہم شروع ہوئی توقار ی حنیف جالندھری جیسے باہمت علماء سامنے آئے اوراس آندھی کے سامنے دیواربن کرکھڑے ہوگئے یہ آج بھی اپنے موقف پراستقامت کے ساتھ کھڑے ہیں ، انہوں نے دینی مدارس پرآنے والی مشکلات وآفات اور آندھیوں کا سامنا کیا لیکن اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا حصول مقصد کی سچی لگن کی وجہ سے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں ، جرات، بے باکی اور صاف گوئی بھی آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے عقلمندی اور معاملہ فہمی میں اپنی مثال آپ ہیں ، دینی مدارس کاحالیہ مقدمہ جب انہوں نے وزیراعظم اوردیگرحکام کے سامنے پیش کیاتوحالات کارخ بدلتاہوامحسوس ہوا۔

حکومت نے وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا نور الحق قادی کی معاونت سے دینی مدارس کے حوالے سے جملہ حل طلب امور پر کام کرے گی-اور دینی معاملات پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور کے علاوہ کسی کو آئندہ بیان جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت کی طرف سے  یہ اقدام مثبت ہے مگرسمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے کیااقدامات ہیں جوحکومت کرسکتی ہے اورایسے کون سے امورہیں کہ جودینی مدارس سرانجام دیں تویہ مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتے ہیں ۔

مدارس کی رجسٹریشن کوبڑھاچڑھاکرپیش کیاجاتاہے اوریہ تاثردیاجاتاہے کہ دینی مدارس رجسٹریشن نہیں کروارہے حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ، دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومتی سطح پررکاوٹیں ہیں کوئی بھی مدرسہ رجسٹریشن سے انکاری نہیں ہے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے صوبوں میں مختلف قوانین ہیں پنچاب حکومت چیرٹی ایکٹ ،صوبہ خیبرپختونخواہ وزارت تعلیم اورسندہ وبلوچستان حکومتیں 1860کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت یہ رجسٹریشن کررہی ہیں جس کی وجہ سے مسائل ہیں اہل مدارس نے تجویزدی ہے کہ جملہ مدارس کووزارت تعلیم کے تحت رجسٹرڈکیاجائے تویہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

ایک مسئلہ یکساں نصاب تعلیم کاہے یہ مسئلہ صرف مدارس کانہیں ہے پورے ملک کاہے ہرگلی محلے کاالگ الگ نصاب ونظام تعلیم ہے دینی مدارس کے قائدین پہلے دن سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پہلے مرحلے میں میٹرک تک نہ صرف مدارس اور اسکولوں کا نصاب ایک کیا جائے بلکہ طبقاتی تفریق ختم کرکے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور اس سلسلے میں جو ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے اس میں علما کو مزید نمائندگی دی جائے-

حکومت اورکچھ اداروں کی طرف سے یہ تاثردیاجاتاہے کہ مدارس کاڈیٹانہیں دیاجاتا حالانکہ کوئی مدرسہ ایسانہیں جوحکومت اورحکومتی اداروں کوڈیٹانہ دیتاہومدارس صرف یہ کہتے ہیں کہ ڈیٹاکے نام پرمدارس کوآئے روزتنگ کرنے کاسلسلہ بندکیاجائے مدارس کے قائدین نے حکومت کوکہاکہ آپ ڈیٹاکے حصول کے لیے جامع اورون ونڈوسسٹم شروع کریں ہرمدرسہ پہلے بھی ڈیٹادیتاتھا آئندہ بھی دے گا ۔

وزیراعظم عمران خان نے اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ مدارس کے بچوں کا بھی پورا حق ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں، شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا بنیادی مقصد تفریق کاخاتمہ اور مدرسے کے بچے کو اوپر لانا ہے اس بیان کاخیرمقدم کرتے ہیں مگرمدرسے کے بچے اوپرکیسے آئیں گے ظاہرہے کہ جب مدارس اوران کے طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیاجائے گا، مدارس کی اسنادکوقانونی حیثیت دی جائے گی ان کی اسنادکوسرکاری سطح پرقبول کیاجائے گاان پربھی سرکاری ملازمت کے دروازے کھولے جائیں گے یہ کام بھی حکومت کے کرنے کاہے ماضی کی حکومتوں سے مدارس کی اسنادکے حوالے سے متعددبارمذاکرات ہوئے ہیں ان کوآگے بڑھایاجائے اوران پرعمل درآمدکیاجائے تومدارس کے طلباء اوپرآجائیں گے ۔

قاری محمدحنیف جالندھری نے درست کہاکہ غیرملکی طلباء پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ پاکستان کے لیے اعزاز ہے اور ایسے بچے پاکستان کے سفیر ہوتے ہیں اس لیے غیر ملکی طلبہ کے ویزوں پر پابندی ختم کرکے ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے جائیں۔

ایک مسئلہ مدارس کے ساتھ امتیازی سلو ک کاہے ہم مدارس کے طلباء کواوپربھی لاناچاہتے ہیں تودوسری طرف ان کوکھڈے لائن بھی لگاناچاہتے ہیں حکمرانوں کویہ روش بدلناہوگی اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ بے گناہ اور دینی خدمات میں مصروف عمل علما کرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان سے ظالمانہ سلوک ،دینی مدارس کے قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی اور کھالیں جمع کرنے والوں پر مقدمات،سزاوں اور جرمانے اور بینکوں کی طرف سے مدارس کے اکاونٹ کھولنے پر غیر اعلانیہ پابندی جیسے مسائل کاسامناہے دوسری طرف کسی این جی او،فلاحی ادارے اوررفاعی ہسپتالوں پرایسی کوقدغن نہیں ہے ،وہ آزادانہ اپنی سرگرمیاں کرتے ہیں ۔

حکومت مدارس کے لیے کچھ کرناچاہتی ہے توآگے بڑھے دینی مدارس ومساجد کویوٹیلیٹی بلزسے مسثنی قراردے یاان سے کم ازکم غیرضروری ٹیکسزختم کیے جائیں،مولانا محمد حنیف جالندھری نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ عربی زبان کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں کا فوری نوٹس لیں،اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان قرار دلوائیں،ناظرہ قرآن کریم اور ترجمہ قرآن کریم کی مرحلہ وار تعلیم کے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں-جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے ۔

یہ سب اقدامات خلوص نیت اورملک کے وسیع ترمفادمیں کیے جائیں تومدرسہ ازخودقومی دھارے میں شامل ہوجائے گا اگرمدارس کے بچوں کواوپرلانے کے نام پرکسی بیرونی ایجنڈے کے تکمیل کی کوشش کی جائے گی توپھرمدارس کے لیے یہ ایجنڈہ قابل قبول نہیں ہوگا۔حکومت کوہوشیاررہناہوگا کہ یہاں کئی بہروپیے مدارس کے نام پرحکومت کوگمراہ کررہے ہیں ان کامدارس سے کوئی لینادینانہیں ہے ۔اتحادتنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین نے کہاہے کہ نئی حکومت سے پہلی ملاقات تھی جونہایت خوشگواررہی ہے ہم اس ملاقات کے نتائج اورحکومتی اقدامات کے منتظرہیں ہم نے گیندحکومت کی کورٹ میں ڈال دی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں