5,745

بھٹکا مسافر(قسط اول)

افسانہ نگار: شاکرہ مفتی

قسط اول 

یہ افسانہ معاشرے کی کچھ ایسی تلخ حقائق پر مبنی ہے جو عام ہو چکے ہیں مگر اس بارے میں بہت کم لوگ ہیں جو بات کرنا پسند کرتے ہونگے کیونکہ یہ وہ برہنہ سچائیاں ہیں جنہیں معاشرہ زبان پر لاتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہے اس لیے اس افسانے کا نام میں نے( بھٹکا مسافر) نام رکھا ہے 

وہ تنہا خالی سڑک پر شراب کے نشے میں دھت چلتا جا رہا تھا. ہاتھ میں جلتی ہوئی سگریٹ آدھی ہو چکی تھی، وہ ہر سیکنڈ بعد کانپتے ہاتھوں میں دبے سگریٹ کو اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیتا اور پھر دھواں چھوڑتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کر لیتا.. آنکھوں میں سیاہ حلقے صاف ظاہر کر رہے تھے کہ وہ کئی راتوں سے نہیں سویا..

آخر تھک ہار کر ایک جگہ اینٹ رکھی دیکھ کر اسپر بیٹھ گیا. بیٹھتے ہی پہلی سگریٹ کو پھینک کر اپنی چپل سے رگڑا پھر لرزتے ہاتھوں سے دوسری سگریٹ نکال کر دوبارہ کش لگانے شروع کر دیئے اور وہی آسمان کی طرف دھواں چھوڑنے والا سلسلہ شروع ہو گیا..

دل میں ایک درد کی لہر تھی جو دھیرے دھیرے سانس کے ساتھ محسوس ہو رہی تھی..اچانک آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا اور دھندلی آنکھوں سے صرف کچھ سائے دیکھ سکا اور اسکا سَر سائڈ میں لُڑک کر زمین میں پڑی مٹی پر گر کر پھٹ گیا خون نکل کر مٹی میں جذب ہو گیا..

جب ہلکا ہلکا ہوش آنا شروع ہوا تو سَر بُری طرح چکرا رہا تھا اور جو درد پہلے دل میں محسوس ہو رہا تھا اب وہ کہیں غائب ہو کر سَر میں بَس چکا تھا.. اُس نے آنکھیں کھولنے کی پوری کوشش کی اور سَر پکڑ کر اٹھنے کی مگر ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اندھا ہو چُکا ہو کچھ نظر نہیں آرہا تھا..سَر کو چھوڑ کر اب اُس نے اِدھر اٌدھر ہاتھ مارنے شروع کر دئیے کوئی ہے..؟ اُس نے ہمت کر کے پکارنا شروع کیاکوئی ہے….؟ اب کی بار آواز میں تیزی لانی شروع کی..ارے میں کہاں ہوں.. کوئی ہے.. کوئی بتائے گا..؟ تیسری بار میں سب درد بھول. کر اس نے پوری قوت سے چیخنا شروع کر دیا..

پہلے وہ سانسوں کے ساتھ اُٹھتے درد کو سگریٹ کے دھوئیں میں اُڑا رہا تھا.. پھر زمین پر گر کر جو درد ہوا وہ درد زیادہ بھاری لگا اس کے بعد بیہوشی کے بعد اٹھا تو سَر دُکھ رہا تھا وہ درد اس سے بھی بدتر تھا مگر جب آنکھوں کے سامنے کچھ نظر نہیں آیا تو سارے درد بھول کر اسے یہ تکلیف زیادہ لگی کہ کچھ نظر کیوں نہیں آرہا اسکے بعد جب اس نے پکارنا شروع کیا تو وہ اس اندھیرے کے درد کو بھول کر اس خوفناک درد میں مبتلا ہو چکا تھا کہ کوئی اسکی پکار تک سننے والا نہیں ہے..بس یہ شاید درد کی آخری حد تھی.. وہ پھر سَر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا اور رونا شروع کر دیا کوئی سنتا کیوں نہیں آخر میں کہاں ہوں؟ جس زندگی کو وہ بیکار کی زندگی سمجھ رہا تھا اب وہی زندگی بچانے کے لئے وہ رو رہا تھا..

روتے ہوئے خدا یاد آگیا.. یا اللہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں خوف کے مارے بُرا حال ہو رہا تھا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا.. یا خدا مدد فرما… اللہ تیرے سوا کوئی نہیں جو مدد کر سکے.. یا خدا… آواز میں پھر تیزی آگئی اور چیختے ہوئے آنکھیں پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا مگر وہی اندھیرا گھپ..آخر درد تھکن اور پسینے سے چور ہو کر اسکی آنکھیں دوبارہ بند ہونے لگیں اور دھیرے دھیرے وہ بیہوشی کی حالت میں جانا شروع ہو گیا..وہ بی اے پاس مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان لڑکا تھا.. تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ظاہر شاہ..تین بہنوں پر ہوا تھا تو ماں باپ کے لاڈ پیار نے ضدی اور خود سر بھی بنا دیا تھا. جیسے تیسے کر کے تعلیم مکمل کی اور سب نوجوانوں کی طرح بڑے بڑے خواب دیکھنے شروع کر دئیے اور ان خوابوں کے پورا کرنے کے لئے کسی شارٹ کٹ کی راہ پر چلنے کی خواہش پال بیٹھا

اماں کی الگ خواہش تھی کہ کسی پیسے والی لڑکی سے شادی ہو جائے تو سبکی زندگی سنور جائے گی اسی لئے جب وہ بائیس سال کا ہوا تو اماں نے لڑکی تلاش شروع کردی جہاں جس کی شادی میں جاتی لڑکی خوبصورت ہوتی تو ساتھ میں اسٹیٹس بھی اچھا دیکھتیں اور اسی لالچ میں پڑوس میں رہنے والی سعدیہ بی بی نے کوئی باہر کا رشتہ دکھایا جو امریکہ میں رہتی تھی اور مطلقہ تھی اور اب کسی کم عمر لڑکے سے شادی کر کے اسے باہر بلا کر اسکی اور اسکے خاندان کی زندگی سیٹ کر سکتی تھی…ماں کی تو آنکھیں روشن ہو گئیں اور ظاہر شاہ کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا امریکہ نکلنے کے چکر میں اسے سب کچھ منظور تھا بس ایک بار باہر نکل جاؤں پھر دیکھنا میں کیسے تم لوگوں کی زندگی کو بدلتا ہوں.. ظاہر شاہ نے اپنی ماں اور تینوں بہنوں کو دلاسا دیتے ہوئے کہا..

یہ نوجوان لڑکے آجکل باہر نکلنے کے چکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ باہر کی زندگی اتنی آسان نہیں جتنی انہوں نے سمجھ رکھی ہوتی ہے روپیہ کمانے سے زیادہ ڈالر کمانا مشکل ہوتا ہے انہیں تو لگتا ہے باہر نکلیں گے اور پیسہ درخت پر لگا ہوا ملے گا یا پھر زمین پر گرا ہوا ملے گا انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا اگر پوری دنیا میں ڈالر کی اہمیت بنی ہوئی ہے تو وہ کسی وجہ سے بنی ہوئی ہے ایک روپیہ کی اتنی اہمیت نہیں مگر ایک ڈالر کی بہت اہمیت ہوتی ہے دن رات محنت کر کے لوگوں کے کہیں جھوٹے برتن صاف کرنے پڑتے ہیں کہیں کوئی جمعدار بنا ہوتا ہے کہیں کوئی چوکیدار بن جاتا ہے کہیں کوئی رات کی ڈیوٹی لگاتار کر کے دوبارہ دن کی ڈیوٹی پر کھڑا ہوتا ہے… تب جا کر کہیں چند ڈالر ہاتھ میں آتے ہیں تو وہاں کے خرچے کرتے ہوئے وہ ڈالر بھی خرچ کرتے ہوئے دل دکھ رہا ہوتا ہے تب پتہ لگتا ہے مہنگائی کسے کہتے ہیں اس وقت دل. چاہتا ہے کاش اپنے ملک میں ہوتے تو پڑھ لکھ کر کم از کم کوئی عزت دار نوکری پر لگے ہوتے

رمضان، عید کی خوشیاں وہاں پتہ ہی نہیں لگتیں سب اپنی اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں اسوقت اپنا دیس شدت سے یاد اتا ہے دوستوں کے قہقے بہنوں کے ہاتھ کے پکوڑے مسجدوں کی رونقیں عبادت کی تازگی اماں کا رات کو انتظار کرنا اور پھر تھک ہار کر جب گھر آو تو ماں کے ہاتھوں سے سر میں مالش کروا لینا ساری تھکن اتار لینا شدت سے یہ چیزیں محسوس ہوتی ہیں اور تب پتہ لگتا ہے کہ انسان پیسہ بنانے کی مشین بن چکا ہے اور ان سب نعمتوں سے محروم ہو چکا ہے کچھ پانے کے لئے بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے،ظاہر شاہ کو جب اپنا مستقبل سنہرا نظر آنے لگا تو وہ اور بےفکر ہو گیا پوری رات دوستوں میں گزار کر صبح تھک ہار کر گھر لوٹتا اور اوندھے منہ بستر پر گر کر سو جاتا پھر پورا دن نیند کی وادیوں میں امریکہ کے سپنے دیکھتے ہوئے گزرتا..

سعدیہ بی بی کے شوہر کا نام کمال. تھا مگر وہ صرف نام کے ہی کمال نہیں کام کے بھی کمال انسان تھے.. خود چار سال سے امریکہ گئے ہوئے تھے وہ بھی اپنے بیوی بچوں کی لائف سیٹ کرنے باہر نکلے تھے مگر وہاں جا کر کب تک عورت ذات کی محرومی برداشت کرتے آخر پیپر میرج کے بہانے ایک انگریز عورت سے شادی کر لی اور ساتھ رہنے لگے جو پیسہ کماتے گھر بھی بھیج دیتے گھر والے امریکہ سے آنے والے ڈالرز کی بدولت ڈھنک کی زندگی جی رہے تھے مگر ایک مرد کو تو عورت مل ہی جاتی ہے حلال کے نام پر اب مسلم مرد نے اہل کتاب سے شادی جائز قرار دے کر اسکو اپنے حق میں منوا لیا ہے

ان عقل کے اندھوں کو یہ نہیں پتہ کہ پہلے کہ اہلِ کتاب اور اب کے اہلِ کتاب میں زمین آسمان کا فرق ہو گیا ہے ساری زندگی جس شادی کو وہ حلال سمجھتے ہوئے گزار رہے ہوتے ہیں وہ کسی طور سے ان پر حلال نہیں ہوتی،عقل کے اندھے یہ نہیں سوچتے چلو اہل کتاب سے پہلے انکی کتاب کے بارے میں ہی پوچھ لیا جائے مگر پوچھنا گوارا کریں تو پتہ لگے ان اہل کتاب کو بس اتنا فرق پتہ ہوتا ہے ہم عیسائی ہیں یا ہم یہودی ہیں انہیں اپنے ہی دین کی صحیح سمجھ بوجھ نہیں ہوتی آجکل کے سارے اہل کتاب کمیونسٹ ٹائپ سوچ کے حامل. ہو چکے ہیں جنکا کوئی دین سرے سے ہے ہی نہیں

مگر زیادہ پڑھ لکھ لینا بھی نقصان کا باعث بن جاتا ہے اور زیادہ عقلمند ہونا بھی کیونکہ جو اپنے آپ کو زیادہ عقلمند سمجھ کر دین کے نام. پر دلائل کے ڈھیر لانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے وہ گمراہی کی راہ پر نکل جاتا ہے دین میں شک یا وہم کی گنجائش نہیں اور نا ہی دین میں اندھا ہو کر ہر بات ہر اعتقاد کرنے کو کہا گیا ہے اعتدال ہر صورت ہر حال میں ضروری ہے..مگر سمجھیں تب نا.. وہم کا مرض تو انسان کے لیے حد سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جتنا انسان وہمی ہوگا اتنا نفسیاتی مریض بنتا چلا جائے گا.. وہم وسوسے شیطانی وساوس کہلاتے ہیں..

چلیں سب چھوڑئیے یہی سوچ لیں کہ مسلمان کی جو اب آگے نسل آرہی ہے وہ نا پوری اسلام پر عمل کرنے والی ہے اور نا ہی کسی اور مذہب کی یعنی قرآن بھی ساتھ ساتھ اور بھگوان کی پوجا بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے اجی سنیں میرا باپ مسلم تھا میری ماں کرسچن تھی میرا باپ مسلم تھا میری ماں یہودی تھی میری ماں مسلم. تھی میری باپ ہندو تھا… ہائے.. کتنا اچھا لگتا ہے جب کہا جاتا ہے میں بھی مسلم ہوں میری بیوی بھی مسلم اور میری اولاد بھی مسلم ہے میرا پورا خاندان مسلم میری نسلیں بھی مسلم ہی ہونگی مگر نسلیں تباہ ہو رہی ہیں یہ کسی کو نظر نہیں آتا جب گوری سامنے آتی ہے..

لیکن ایک عورت کے لئے مرد تھوڑی حاصل کیا جا سکتا ہے اسے صبر اور پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیا جاتا ہے اور جہاں اس پر زرا شک ہوا بدکرداری کی تہمت لگا کر نا صرف عورت کے نام ہر دھبے کا لقب ملتا ہے بلکہ معاشرے کی بگاڑ کا باعث بھی انہیں جیسی عورتوں کو کہا جاتا ہے..جبکہ فطرت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ایک عورت کے جذبات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہوتا وہ کتنا ان جذبات کی شدت میں مبتلا ہو کر چڑچڑاہٹ کا شکار ہو جاتی ہے یہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا مرد کو اپنی ذات کی تسکین نظر آتی ہے مگر عورت کو کس طرح تسکین دے وہ یہ کبھی نہیں سوچتا.. یہ جو فطری تقاضے ہوتے ہیں یہ جتنا دبائیں گے اتنا ہی شدت اختیار کرتے رہیں گے ختم نہیں ہو سکتے،ایک تحقیق کے مطابق جو میاں بیوی میں اس فطری تقاضے کو بھرپور انداز سے پورا کرتے ہیں  وہ ٹینشن ڈیپریشن جیسے مرض سے دور رہتے ہیں .. صرف پیسہ ہی سکون کی دولت نہیں سکون اللہ نے اور بھی چیزوں میں رکھا ہے

سعدیہ بی بی کا بھی حال کچھ ایسا تھا کہ وہ باہر نکل جائیں تو سب مردوں کی نظروں کا شکار بن رہی ہوتی اور محلے کے لڑکوں کی الگ نظریں جمی ہوئی رہتیں شوہر باہر ہے اور آنٹی اکیلی اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں..ظاہر شاہ کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا سعدیہ کے اوپر فل نظریں جمی رہتیں تھیں..اور آخر رشتے کے بہانے ان کے گھر جانے کا موقع مل ہی گیا اور ہھر رفتہ رفتہ دونوں کی انڈر اسٹنڈنگ ہو گئی وہ اپنے دکھڑے ظاہر شاہ کو سنانے لگ گئیں اور ظاہر شاہ انکے درد کا مرہم بن گیا..اسی لئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاد پر جانے والوں کے لیے چار ماہ کی مدت معین کر دی تھی کہ کوئی مرد اپنی عورت کو چار ماہ سے زیادہ اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تاکہ قوم کو بے راہ روی سے بچا سکیں.. عورت کو اسکا حق مل سکے مگر اب ماڈرن دور ہے اب لوگ کمانے کی غرض سے اپنے بیوی بچوں کو کئی کئی سال کے لئے چھوڑ کر خود تو باہر چلے جاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایک عورت کے لئے مرد کا ساتھ کتنا ضروری ہے صرف پیسہ ہی ہر کمی کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا..

اس پیسے کی وجہ سے بہت سے لوگ ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے واپسی کی راہ بہت مشکل ہو جاتی ہے.ظاہر شاہ کو دوبارہ تھوڑا تھوڑا ہوش آنے لگ گیا تھا اب درد کی شدت کے ساتھ ساتھ اسے فطرتی تقاضے ہونے لگ گئے تھے پتہ نہیں کتنا وقت گزر چکا تھا سر کے درد کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد محسوس ہونے لگا مگر ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اسکی برداشت ختم ہونے لگ گئی تھی.. بھوک کی شدت بھی غالب تھی اور پیٹ کے کئی اور تقاضے بھی اسے ستا رہے تھے اس نے تھوڑی ہمت کرنی شروع کی اور ہاتھوں سے جگہ ٹٹولتے ہوئے آخر دیوار کا سہارا مل گیا دیوار کے ساتھ کونے میں لگ کر اس نے پہلے ہاتھ سے اپنے کپڑے اتار کر اپنا فطری تقاضہ پورا کیا تو کچھ پیٹ کا درد ہلکا ہوا مگر بھوک کی شدت بڑھ گئی..

کون کہتا ہے کہ یہ فطری تقاضے اہم نہیں ان فطری تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہم چاہ کر بھی ان سے نہیں لڑ سکتے اللہ نے ان فطرت کے تقاضوں میں درد بھی رکھا ہے سکون بھی اور مزہ بھی..ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی عبادت میں لگے رہتے اور اللہ سے کہتے اللہ پاک تیری یاد میں جو مزہ ہے وہ کسی چیز میں نہیں تیرے ذکر میں جو سکون ہے وہ کسی چیز میں نہیں اللہ کے بندوں کو بھی یہی سکھاتے سکون تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے مزہ تو صرف اللہ کو یاد کرنے میں ہے..

اللہ پاک نے پیشاب بند کر دیا بڑے پریشان ہوئے پیشاب کا تقاضا شروع ہوا اور حاجت پوری نہ ہو پائے تڑپنے لگے سسکنے لگے دھیرے دھیرے اللہ کا ذکر کم ہو گیا اور پیٹ کو تھامے باتھ روم کے چکر لگنے شروع ہو گئے رونا شروع کر دیا نماز ذکر سب بھول. گئے آخر اللہ سے دعا کی یا اللہ یہ کیسا امتحان ہے یہ کیسی آزمائش یے جو میں آپ کی ہر عبادت سے دور ہو رہا ہوں سمجھ سے باہر ہے..

سب سے آتے جاتے دعا کے لیے کہتے بس یہ دعا کرو میرا پیشاب کھل کر آجائے کہاں اللہ کی عبادت کو سکون کہتے تھے اب ہر آنے جانے والے کو پوچھتے آپ کی صحت تو ٹھیک ہے سارے فطری تقاضے پورے ہو رہے ہیں؟ محلے کے بچوں کو بلوا کر اپنے حق میں دعا کروائی تب جا کر اللہ نے پیشاب کی بندش کھولی اور جب اپنے اس فطری تقاضے سے فارغ ہوئے تو اللہ کی دی ہوئی آزمائش کو سمجھ گئے کہ اللہ نے ہر چیز میں سکون رکھا ہے مزہ رکھا ہے ہمارا کہنا ہی ہمارے لیے بعض اوقات آزمائش کا سبب بن جاتا ہے…. جاری ہے 😊

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں