108

نئے پاکستان میں مہنگائی کا جن

عمرفاروق /آگہی
کسی بھی نئی حکومت کے لیے ابتدائی دنوں میں عوام کوریلیف دیناسب سے بڑاایجنڈہ ہوتاہے مگرنئے پاکستان میں الٹی گنگابہہ رہی ہے غریب عوام کوموجودہ حکومت سے توقع تھی کہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کی جائے گیں اورعوام کو وہ تبدیلی نظر آئے گی جس کا خواب دکھایاگیاتھا مگرموجودہ حکومت کے پہلے ڈیڈھ ماہ میں غریب عوام کی ضروریات سب سے زیادہ مہنگی ہوئی ہیں، ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق 16بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جن میں آٹا،چینی ،گھی ،چاول ،دودھ سے لے کرٹماٹراوردالوں تک قیمتوں میں تیزی سے اضافہ شامل ہے قیمتیں کنٹرول ہونے کانام نہیں لے رہی ہیں ، عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

ریاست مدینہ میں مہنگائی دنوں نہیں گھنٹوں کے اعتبارسے بڑہ رہی ہے، دوکاندارسے جب پوچھا جاتاہے کہ چندگھنٹے پہلے تواس چیزکاریٹ توکم تھا وہ آگے سے منہ بناکرکہتاہے کہ بھائی یہ نیاپاکستان ہے یہاں چیزیں مہنگی ہونے کاپتہ ہی نہیں چلتاکسی بھی وقت کچھ ہوسکتاہے ۔
شماریات بیورو کے مطابق مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں مہنگائی کی شرح میں 5.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کھانے پینے کی اشیا مہنگی اور تعلیمی اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔ جولائی سے ستمبر تک 3 ماہ کے دوران پٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا،رپورٹ میں یہ بھی واضح کردیاہے کہ حکومت نے قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک نہیں کیا، غفلت کے باعث منافع خور من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔

اس پرمزیدظلم یہ ہواکہ وفاقی وزیرخزانہ اسدعمرنے ایک طرف منی بجٹ کے ذریعے عوام پرمہنگائی کابم گرایاہے تودوسری طرف وہ بجلی ،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی کمرتوڑرہے ہیں ،بجلی اورپٹرول کی قیمتوں میں نیا اضافہ ضمنی انتخابات کی وجہ سے مئوخرکردیاہے 14اکتوبرکوہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد مہنگائی کاایک اورطوفان آنے والاہے ، نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد بجلی ایک روپے 16 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے ، صارفین پراسی ماہ 16 ارب روپے کا بوجھ پڑنے والاہے جبکہ حکومت اس سے پہلے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد تک اضافہ کرچکی ہے جس سے گیس صارفین پر ہر ماہ 94 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

منی بجٹ میں حکومت نے درآمدی اشیا پر ٹیکس بڑھایا تو کھانے پینے کی مختلف اشیا کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔حکومتی دعوں کے برعکس منی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لے آیا۔،خوشنما اعداد وشمارکے باوجود ڈالر مہنگا ہونے سے پہلے ہی اشیا کی قیمتیں آسمان پر تھیں ایسے میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے بنک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران شرح نمو میں ایک فیصد کمی اور مہنگائی میں 2 پوائنٹ اضافے کی پیش گوئی کر دی۔اے ڈی بی نے ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک 2018 جاری کرتے ہوئے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ نومنتخب حکومت بڑھتے ہوئے قرض، گرتے ہوئے ذخائر اور خسارے کے مسائل پر توجہ دے۔

رواں برس جی ڈی پی کا تناسب 4.8 تک پہنچ سکتا ہے جو مالی سال جون 2018 میں 5.8 فیصد تھا۔اے ڈی بی کی جانب سے گزشتہ مالی سال میں کی گئی پیش گوئی کے مقابلے میں پاکستان کا شرح نمو 5.8 فیصد تھا۔گزشتہ مالی سال میں مہنگائی کا تناسب 4.5 فیصد رہا جبکہ رواں مالی سال کے اوائل میں مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد ہوجائے گی روپے کی قدرمیں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال 2019 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے قرض سے بچنے کاجھانسہ دے کرعوام کومہنگائی کی چکی میں پیساجارہاہے ، ملک کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے مزیدسخت فیصلے کرنے کی وعیدیں سنائی جارہی ہیں ،پاکستان کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ کی وجہ سے ملک کو شدید کرنٹ اکائونٹ کے خسارے اور زرمبادلہ کی کمی کے بحران کا سامنا ہے ۔آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے حکومت سعودی عرب کے پاس گئی توہے مگردوسری طرف گزشتہ ایک ہفتے سے اسلام آبادمیں آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی کیے جارہے ہیں ان مذاکرات سے خبریں آرہی ہیں کہ آئی ایم ایف ٹیکس اور قیمتیں بڑھانے کی کڑی شرائط عائد کر رہا ہے جس سے ملک میں بے تحاشہ مہنگائی ہو گی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2013سے 2017تک گندم کی پیداوار اپنے اہداف سے بھی کہیں زیادہ پیدا ہوئی اور یہی گندم پچھلے دو برسوں سے گوداموں میں پڑی خراب ہونے کو ہے لیکن تھر اور ملک کے دیگر علاقوں میں لوگ بھوکوں مر رہے ہیں،اورنئی حکومت کے اقدامات پورے ملک کوتھربنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں غربت کی بجائے غریب کومٹایاجارہاہے اورغریب آدمی کی چیخیں نکالی جارہی ہیں اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ چنددن پہلے حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کومراعات کی مد میں ایک ارب مالیت کے سفری وائوچرز جا ری کردیئے ہیں۔ مجموعی طور پر 304 ارکان قومی اسمبلی اور100 سینیٹرز کو اندرون ملک مفت سفری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، اور ارکان پارلیمنٹ کو سالانہ بزنس کلاس کے 20 ریٹرن ٹکٹ جا ری کیے جائیں گے ۔ قومی اسمبلی ،سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے قومی ایئرلائن کو رقوم جا ری کردی گئی ہیں جب کہ پی آئی اے نے سفری وائوچرز کی مد میں ٹکٹس کا اجرا بھی شروع کر دیا ہے۔

الیکشن سے قبل اوربعد عمران خان نے بار بار یہ وعدہ دہرایا تھا کہ وہ حکومت میں آ کر فوری طور پر تارکین وطن سے 20 ارب ڈالر اکٹھے کر لے گیں۔ اس 20 ارب ڈالر کو ڈیم کے نام سے اکھٹا کرنے کی کوشش کی گئی مگریہ مہم زیادہ کامیاب نظرنہیں آرہی ہے۔عمران خان نے نئے ٹیکس دہندگان سے 8 کھرب روپے حاصل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ لیکن انہوں نے پرانے ٹیکس دہندگان پر ہی مزید بوجھ ڈال دیا۔ انہوں نے کرپشن روک کر اور لوٹی ھوئی دولت واپس لا کر آمدن بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ بھی ناکام ہوا۔سی پیک پر نظر ثانی سے پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ چین نے صاف جواب دے دیا۔ آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر جبکہ سعودی عرب سے دس ارب ڈالر لینے کے درمیان معاملہ پھنسا ہوا ہے اور یہ معاملہ امریکہ نے پھنسا رکھا ہے۔ جس سے مہنگائی اور بے روزگاری پھیل رہی ہے۔ عمران حکومت پہلے ہی منی بجٹ میں ٹیکس لگا کر ڈھائی کھرب جبکہ ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کے ذریعے مزید ڈھائی یعنی کل پانچ کھرب حاصل کر چکی ہے۔

حکمرانوں کی غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ وہ بھینسیں اوروزیراعظم ہائوس کی گاڑیاں نیلام کرنے میں لگے ہوئے ہیں اپنے کتوں کو ایک گھرسے دوسرے گھرکیسے منتقل کیاجائے اس پرمنصوبہ بندی کررہے ہیں عوام کومزیدکیسے نچوڑاجائے اس پرغورکیاجارہاہے اس ماحول میں ملک اورغریب عوام ترقی نہیں کرسکتے ۔

پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نکالنا اگرچہ آسان نہیں ہے لیکن ناممکن بھی نہیں ہے۔ اس دنیا میں کئی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو پستی کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھے مگرمخلص اور محب وطن قیادت ملنے پر چند سالوں میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں آ کھڑی ہوئیں ۔ہمارے ملک میں کسی چیزکی کمی نہیں ہے مخلص قیادت اورجس کے قول وفعل میں تضادنہ ہوایساحکمران ہی ملک کوبحرانوں سے نکال سکتاہے یہ سب اسی صورت میں ممکن ہو گا جب حکمران عوام کے دردکواپنادردسمجھیں گے اشرافیہ کی طرف سے قانون میں کی گئی عوام دشمن ترمیموں کو ختم کر کے خوشحال پاکستان کیلئے اصلاحات کرنے میں ہر قدم اٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں