2,345

آزادکشمیر میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردے دیا گیا۔

مظفرآباد (عبدالواجد خان سے)بارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آزادکشمیر میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردے دیا گیا۔منگل کے روز قانون ساز اسمبلی وکونسل کے مشترکہ خصوصی اجلاس کے دوسرے روزختم نبوت وتحفظ ناموس رسالت ایکٹ 2018 ء متفقہ طور پر منظور کر لیاگیا۔آج سے 45سال قبل 1973ء میں سردار عبدالقیوم خان کے دور میں ممبر اسمبلی میجر محمد ایوب خان نے قومی اسمبلی سے بھی قبل ختم نبوت کی قرارداد پیش کی تھی تاہم چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اسے قانون کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔عوام الناس خصوصاً دینی جماعتوں کے پرزور اصرار پر وزیراعظم نے وفاقی ختم نبوت قانون آزادکشمیر میں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پرایک ماہ کے اندر اندر عملدرآمد ہوگیا۔ایوان میں ختم نبوت ایکٹ منظور ہوتے ہی حکومتی واپوزیشن اراکین نے ڈیسک بجا بجا کر حکومت کو داد دی جبکہ گیلری میں موجود علماء کرام اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے کھڑے ہوکر خیر مقدم کیا اجلاس کی صدارت سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کی جبکہ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر سمیت جملہ اراکین کابینہ ،حکومتی ممبران اسمبلی اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین واراکین نے شرکت کی۔ دوسرے روز کے اجلاس میںختم نبوت وتحفظ ناموس رسالت ایکٹ The Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution (Twelth Amendment) Act, 2018. پر مفصل بحث کے بعد متفقہ طور پر ایوان نے منظوری دے دی۔سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے اجلاس کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری یہ حاضری قبول فرمائے اور اس کے صلے میں دُنیا و آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے، میں اسی کے ساتھ تمام معزز ایوان کو بل متفقہ پاس کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اسی کے ساتھ اجلاس غیر معینہ مُدت کے لیے ملتوی ہو گیا۔اجلاس میں عبوری آئین 74میں 12 ویں ترمیمی ایکٹ کا مسودہ پیش کیا گیا جس کے تحت قادیانیوں غیر مسلم اقلیت شمار ہوں گے کو ایوان نے متفقہ طورپر منظور کرلیا ۔اجلاس میں تلاوت کلا م پاک ونعت رسول مقبو لۖ کے بعد وزیرقانون راجہ نثار احمد نے آزاد جموں وکشمیرعبوری آئین (12ویں ترمیم) ایکٹ 2018,پر کمیٹی آن بلز کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جو پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں ایوان میں پیش کیا گیا تھا اور خصوصی اجلاس منگل تک جاری رکھنے کا سپیکر نے اعلان کیا تھا۔وزیرقانون نے ایوان میں ترمیم کا مسودہ پڑھ کر سنایا جس کے بعد ایوان میں نئے بل پر عام بحث کا آغاز ہو ا۔نئے بل پر سب سے پہلے ممبراسمبلی پیر سید علی رضا بخاری نے بحث کا آغاز کیااور ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک ایسا مبارک دن ہے کہ ایوان میں تاریخی بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔انہوں نے بل پیش کرنے میں تعاون کرنے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان ،ارکان کابینہ ،ممبران اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علما و مشائخ و ریاست بھر کے عاشقان رسول کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ پیر سید علی رضا بخاری نے کہا کہ امتناع قادیانیت کے قوانین کی منظوری سے معاشرے سے بہت بڑی برائی کے خاتمے کا موقع پیدا ہوگا اور مسلمانوں کے عقائد کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے مقدر میں لکھ چکا تھا کہ تحفظ ختم نبوت کے بل کی موجودہ ایوان سے منظوری ہو اور یہ ایوان گنبد خضری کے مکین سے مکمل وفاداری کا ثبوت فراہم کرے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون ساز ی کے اثرات پورے خطہ پر پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کو ناموس رسالت اپنی جان ،مال اور اولاد سے بڑ ھ کر عزیز ہے دفاع ختم نبوت کیلئے جس نے بھی جب جب قربانی پیش کی اللہ تعالیٰ نے اسے امر بنا دیا اور موجودہ ایوان کے ممبران بھی تاریخ کے اوراق میں امر ہو جائیں گے انہوں نے کہا اللہ تعالی کا خصوصی شکر ،کرم نوازی اور فضل ہے کہ قرارداد ختم نبوت حتمی قانون بنانے میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع دیا اور قائد ایوان نے جس طرح قانون سازی کے مراحل طے کرانے میں مدد اور تعاون کیا میں ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیرتعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ اگرچہ ہمارے آئین میں پہلے بھی ختم نبوت کے حوالے سے شقیں موجود ہیں مگر موجود بل کی منظوری کے بعد رہی سہی ابہام کی صورتحال بھی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پیر سید علی رضا بخاری نے وزیراعظم کو سب سے پہلے ایک خط لکھ کر قانون سازی کیلئے عمل شروع کرایا اور بھرپور دلچسپی لیکر اس سارے معاملے کا پیچھا کرتے ہوئے اسے منطقی انجام تک لے گئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری ہمارے لیے باعث فخرہے جس پر اللہ تعالی کے حضور شکرگزار ہیں ۔ممبر اسمبلی سحرش قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا وہ اس وقت سے اس کو شش میں ہیں کہ کسی طرح ان قوانین کو ختم کرایا جائے اور موجودہ اسمبلی نے یہ بل لا کر عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔پیپلزپارٹی کی ممبر اسمبلی شازیہ اکبر نے کہا کہ آپ ۖکے خاتم النبینۖ ہونے پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا ۔آپۖہی اس کائنات کی وجہ تخلیق ہیں ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز کیا بات کیا ہوسکتی ہے کہ ہم حضرت محمد ۖ کی امت میں سے ہیں ۔وزیرخوراک سید شوکت شاہ اور عبدالماجد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سید پیر علی رضا بخاری اور راجہ محمد صدیق کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اس بل کو ایوان میں لانے کیلئے محنت کی ۔انہوں نے کہا کہ یہی بل ہماری بخشش کا سبب بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “آزادکشمیر میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردے دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں